Sunday, 3 November 2013

سیدہ کائنات فاطمۃ الزاہرا رضی اللہ عنھا بطور بیوی

نقوش سیرت سیدہ کائنات فاطمۃ الزاہرا رضی اللہ عنھا
 بطور بیوی
تحریر : ڈاکٹر علی اکبر الازہری
ذیل میں ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ازدواجی حیات مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہوئے مسلمان بیوی کے لئے اسوہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روشنی کشید کریں گے۔

٭ گھر، معاشرتی زندگی میں امن وسکون اور اعتدال و توازن قائم رکھنے کے لئے بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے اس اہم ترین محاذ کو اسلام نے بہت سنجیدگی سے لیا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایک صالح، مسلمان خاتون کی صالحیت، قابلیت اور وقار کا دارومدار اس کی گھریلو ذمہ داریوں میں عہدہ برائی سے مشروط کردیا گیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ دوسرے معنوں میں گھر اسلامی معاشرے کا وہ اہم مورچہ ہے جہاں بیٹھ کر عورت اپنا اصل جہاد کرتی ہے اور مرد کے شانہ بشانہ جہاد زندگانی میں بھرپور حصہ لیتی ہے۔ اسلامی اقدار کی حفاظت کا مرحلہ ہو یا اولاد کی پرورش و تربیت کا مسئلہ سب جگہ خاتون خانہ کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور یہ کردار گھر کی پرامن چاردیواری میں ہی ادا ہو سکتا ہے۔

سیدۃ نساء العالمین سے بڑھ کر ان گھریلو ذمہ داریوں سے کون زیادہ واقف تھا۔ عین جوانی (27 یا 28سال) کی عمر میں وفات کی وجہ سے اگرچہ آپ کی ازدواجی زندگی پر مشتمل حصہ بہت مختصر ہے لیکن آپ کی اس کم و بیش دس سالہ گھریلو ازدواجی عرصہ زندگی میں اسلامی خواتین کے لئے بھرپور نمونہ عمل موجود ہے۔

٭ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے آپس میں باہمی رضا مندی سے گھریلو امور اور ذمہ داریوں کی تقسیم کچھ اس طرح کر رکھی تھی کہ باہر کے سارے امور اور ضروریات زندگی کی فراہمی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذمے تھی اور گھر کے سارے کام، چکی پیسنا، جھاڑو دینا، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر گھریلو امور کی انجام دہی حضرت سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے سپرد تھی۔ ان امور میں آپ کی خوشدامن حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا بھی معاون تھیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مدارج النبوہ میں یہ روایت درج کی ہے کہ یہ تقسیم خود تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ اس طرح ان کی زندگی میں تنگ دستی کے باوجود خوشگوار تعاون اور حسن و سکون پیدا ہوگیا تھا۔

٭ سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ تھیں کہ بیوی کا مزاج شوہر کے مزاج اور فکرو عمل پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو اسے سعادت مندی کی مسند پر بٹھادے اور چاہے تو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دے۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرد میدان تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدنی زندگی میں جتنے معرکہ ہائے حق و باطل بپا ہوئے، ان میں علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی کاری ضربیں تاریخ شجاعت کا تابناک باب ہیں۔ آپ (ر) فاتح خیبر، غازی بدر و احد و حنین اور خندق کے صف اول کے مجاہد تھے۔ ایسے ہمہ جہت مرد مجاہد اور عظیم سپہ سالار کی خدمت کے لئے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی خیر خواہ محب و مخلص اور بہادر زوجہ، قدرت کا اپنا انتخاب تھا۔ حضرت سیدہ زہراء رضی اللہ عنہا نے شوہر نامدار کی جہادی زندگی میں بھرپور معاونت فرمائی۔ انہیں گھریلو کاموں سے فراغت اور بے فکری مہیا کی۔ سارا دن تیغ و تُفنگ سے تھکے ماندے حضرت علی رضی اللہ عنہ جب واپس گھر آتے تو سیدہ رضی اللہ عنہا سو جان سے ان کی خدمت بجا لاتیں۔ ان سے جنگ کے واقعات سن کر ایمان تازہ کرتیں اور ان کی شجاعت کی داد بھی دیتیں۔ زخموں کی مرہم پٹی کرتیں، خون آلود تلوار اور لباس کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتیں، یوں یہ پیکر جرات و شجاعت تازہ دم ہوکر اگلے معرکے کے لئے کمر بستہ ہوجاتے۔

ہاں! یہی جذبہ مسلمان بیوی کا طرہ امتیاز ہے۔ وہ شوہر کی صلاحیت، وقت اور اس کی جان ومال کو اپنی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کو دین کی سربلندی میں صرف کر دینے پر اسے ابھارتی ہے۔ بلاشبہ ایسی خواتین قیامت کے دن مجاہدین کی صف میں کھڑی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی مستحق ٹھہریں گی۔ آج بھی مسلمان خواتین اگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اس صفت کو اپنے کردار کا حصہ بنالیں تو ایسے گھرانوں میں تربیت پانے والی اولاد سیدنا امام حسن و سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما اور حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شکل میں تاریخ دعوت و عزیمت کا قابل فخر سرمایہ کیوں نہیں بنے گی اور آئندہ مؤرخ ان گھرانوں کو کیسے خراج تحسین پیش نہیں کرے گا۔

٭ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی سورہ الفتح میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صفات بیان فرمائی ہیں کہ وہ

(1) اہل کفر کے لئے شدت پسند ہیں (2) اہل ایمان کے لئے پیکر رحمت و شفقت ہیں (3) ان کی پیشانیوں میں سجدوں کی کثرت کی واضح علامت ہے۔ (4) ان کے شب و روز حالت رکوع و سجود میں رضائے الہٰی کی طلب میں گزرتے ہیں۔

صاف ظاہر ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام و منصب اس بات کا متقاضی تھاکہ وہ ان صفات عالیہ میں عام صحابہ کرام رضی اللہ عہنم سے بڑھ چڑھ کر اپنی قربت اور خصوصیت کا ثبوت فراہم کرتے۔ تاریخ گواہ ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عملاً ایسا کرکے دکھایا آپ بچپن سے فیضان نبوت و رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے براہ راست امین تھے۔ عارف کامل اور زاہد شب زندہ دار تھے۔ ان کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی تھی۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شخصیت مطہرہ پر بھی یہی صفات غالب تھیں۔ دونوں نے مَہْبِطِ وحی میں پرورش پائی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات دونوں کے پیش نظر تھے اس لئے دونوں ہستیوں کا اوڑھنا بچھونا اسلام کی خدمت اور عبادت و ریاضت تھا۔ اس کا اعتراف سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ازدواجی زندگی کے ابتدائی دنوں میں کرلیا جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا، ’’سناؤ علی! شریکہ حیات کیسی ملی ہے؟‘‘ عرض کیا ’’نعم العون علی العبادۃ‘‘ میری شریکہ حیات فاطمہ میری عبادت گزاری میں بہترین معاون ہیں۔

٭ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کل کائنات یہ گھر اور آپ کا سب سرمایہ علم تھا جس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا : اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں‘‘ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس نعمت عظمٰی پر ہمیشہ فخرکرتے تھے۔ آپ (ر) کا یہ شعر زبان زد خاص و عام ہوکر طالبان علم کو بہت بڑا شرف بخش گیا ہے۔

رضِينا قِسمة الجبّار فِينا لنا علمٌ ولِلجُهّال مالٌ

یعنی ہم خالق ارض و سماوات کی اس تقسیم پر خوش ہیں جس کے تحت اس نے ہمارے مقدر میں علم کی سعادت اور جہلاء کے لئے مال و دولت رکھ دیا۔

مراد یہ کہ دنیوی مال و اسباب علم کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ انسان کی عظمت علم سے وابستہ ہے نہ کہ مال و دولت سے۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دولت علم سے مالا مال تھے لیکن سیم و زر سے آپ کا دامن ہمیشہ خالی رہا اس لئے حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی ساری زندگی فقر و فاقہ اور تنگ دستی میں گزری۔ کونین کے مالک کی لاڈلی دو دو اور تین تین دن کچھ کھائے پئے بغیر گزار دیتیں لیکن حرف شکایت زبان پر نہ لاتیں۔ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دینی فرائض سے فرصت پاکر محنت مزدوری کرتے جو ملتا وہ لاکر سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے ہاتھ میں دے دیتے اور آپ اسے صبر و شکر کے ساتھ قبول فرمالیتیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ فقرو تنگ دستی آپ دونوں کے خوشگوار تعلقات پر اثر انداز ہوئی ہو۔

تنگ دستی پر صبر و ضبط کرلینا شاید آسان ہو لیکن اس حالت پر راضی اور خوش ہوکر اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا اور چہرے پر کبھی ناگواری کے آثار تک نہ لانا بہت بڑے حوصلے اور پختہ کردار کی علامت ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوتا کہ آپ ’’الفقر فخری‘‘ کہنے والے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تربیت یافتہ عظیم بیٹی ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ سیدہ کونین رضی اللہ عنہا کو دو تین دنوں کے فاقہ کے بعد کچھ ملا۔ اپنے شہزادوں اور شوہر کو کھلانے کے بعد اس کا کچھ حصہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! ’’میری بیٹی تمہارا باپ یہ لقمہ چار دن کے بعد کھارہا ہے‘‘ ہاں! یہ وہی گھرانہ ہے جہاں سے مخلوق کو دونوں جہانوں کے خزانے تقسیم کئے جاتے تھے اور اب تک کئے جارہے ہیں لیکن فقر اختیاری تھا کہ اپنی ذات پر ہمیشہ دوسروں کو ترجیح دی۔
کل جہاں مِلک اور جو کی روٹی غذا
اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام​

٭ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں ہمیشہ توازن برقرار رکھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عبادت و ریاضت میں محو ہوکر شوہر کی خدمت اور بچوں کی پرورش میں کمی آئی ہو، یا بچوں اور شوہر کے حقوق کی ادائیگی میں عبادت و ریاضت کے معمولات متاثر ہوئے ہوں۔اللہ کی عبادت اورشوہر کی اطاعت میں یہی حسنِ توازن ہے جو خاتونِ جنت کی کامیاب ترین اور مثالی حیاتِ مقدسہ کا طرہ امتیاز ہے۔ورنہ عام طور پر ان دونوں محاذوں پر خواتین و حضرات انصاف نہیں کر پاتے خصوصاً خواتین کے لئے یہ توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’فاطمہ رضی اللہ عنہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کو فریضہ سمجھتی تھی اسی طرح میری اطاعت بھی کرتی تھی۔ عبادت و ریاضت کے انتہائی سخت معمولات میں اس نے میری خدمت میں ذرہ بھر فرق نہ آنے دیا۔ وہ ہمیشہ گھر کی صفائی کرتی، چکی پر گردو غبار نہ پڑنے دیتی، صبح کی نماز سے پہلے بچھونہ تہہ کرکے رکھ دیتی گھر کے برتن صاف ستھرے ہوتے۔ ان کی چادر میں پیوند ضرور تھے مگر وہ کبھی میلی نہیں ہوتی تھی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گھر میں سامان خوردو نوش موجود ہو اور انہوں نے کھانا تیار کرنے میں دیر کی ہو، خود کبھی پہلے نہ کھاتی، زیور اور ریشمی کپڑوں کی کبھی فرمائش نہ کی، طبیعت میں بے نیازی رہی، جو ملتا اس پر صبر شکر کرتی، میری کبھی نافرمانی نہیں کی، اس لئے میں جب بھی فاطم رضی اللہ عنہا کو دیکھتا تو میرے تمام غم غلط ہوجاتے‘‘۔

حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی یہی پاکیزہ ادائیں تھیں جن پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دل و جان سے فدا تھے۔ ان کی موجودگی میں دوسرا نکاح نہیں کیا۔ کسی نے وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ’’سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کیسی تھیں؟‘‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نم دیدہ ہوکر کہنے لگے۔ ’’فاطمہ رضی اللہ عنہ دنیا کی بہترین عورت تھی، وہ جنت کا ایسا پھول تھا جس کے مرجھا جانے کے بعد بھی مشام جان معطر ہے۔ جب تک زندہ رہی مجھے ان سے کوئی شکایت نہ ہوئی‘‘۔

٭ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا گہوارہ صبر و رضا کی پروردہ تھیں۔ آپ کے ہاتھ تو چکی چلانے میں مصروف رہتے لیکن زباں پر قرآن پاک کی تلاوت جاری رہتی۔

٭ نوری اور ناری مخلوق آپ (ر) کی مطیع اور فرمانبردار تھی لیکن اس سے بے نیاز ہوکر آپ (ر) نے اپنی رضا کو شوہر کی رضا میں گم کر رکھا تھا۔

٭ آپ سحر خیزی اور گریہ شب کی وجہ سے سرہانے اور بستر کے آرام اور تکلف سے بے نیاز تھیں۔ نماز کے وقت آپ کے اشک گہر بار اتنی کثرت سے جاری رہتے کہ جبرائیل امین علیہ السلام ان اشک کے موتیوں کو زمین سے چن کر عرش بریں پر شبنم کی طرح گراتے تھے۔

مندرجہ بالا چند سطور میں ہم نے بطور بیوی حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کے چند نقوش کی نشاندہی کی ہے۔ آج اگر مسلمان عورت یہ نقوش حرز جاں بنالے تو تاریخ کے اس نازک ترین دور میں بھی اسلام کی برکت سے ہمارا ماحول رشک جنت بن سکتا ہے۔ تباہی کے کنارے کھڑی انسانیت کو آج بھی رحمۃ للعالمین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کی سیرت، فوزو فلاح کاپیغام دے رہی ہے۔ اب یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ شرف انسانیت کا عنوان بنتی ہے یا تخریب اخلاق و کردار کے ذریعے تباہی کا ہتھیار۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Archive

About

subtainhdr

Google+ Badge

PAKISTAN TIME

Blog Archive