Tuesday, 22 October 2013

حضرت داتا گنج بخش رحمت اللہ علیہ

حضرت داتا گنج بخش رحمت اللہ علیہ کا مختصر تعارف
تحریر: اسبطین حیدر شاہ آف شاہ کوٹ
حضرت داتا گنج بخش ؒ کا اصل نام علی بن عثمان بن علی ہے ۔ کشف المحجوب میں آپ نے اپنا نام ابوالحسن علی بن عثمان بن علی الجلابی الہجویری الغزنوی تحریر فرمایاہے۔ گویا کہ آپ کا نام علی، کنیت ابوالحسن ، لقب گنج بخش ، والد گرامی کا نام عثمان، سکونت غزنی شہر ، محلہ ہجویریہ جلاب ہے۔
شجرہ نسب
آپ کا سلسلہ نسب 9 واسطوں سے سیدنا حضرت علی ابن ابی طالبؓ سے جا ملتا ہے۔ حضرت علی ہجویری بن عثمان بن سید علی بن حضرت عبدالرحمن بن حضرت سید عبداللہ شجاع بن ابو الحسن علی بن حسین اصغر بن سید زید بن حضرت امام حسنؓ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ ابن ابی طالب بن عبدالمطلب قریشی وہاشمی۔ حضرت زیدؓبن حضرت امام حسنؓ جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے معرکہ کرب وبلا میں اپنے چچا حضرت امام حسینؓ کے ساتھ گئے تھے لیکن میدان جنگ سے صحیح وسلامت اپنے بھائی حسن مثنی کی طرح سے واپس آئے تھے۔ سید نا حضرت امام حسن ؓ کے کل آٹھ بیٹے تھے۔
-1حسن مثنی -2زید -3عمر-4قاسم 5۔ابوبکر -6عبدالرحمن -7طلحہ -8عبیداللہ۔ اس طرح آپ کا شجرہ دس واسطوں سے حضرت محمد ﷺ تک پہنچتا ہے۔
ولادت با سعادت
حضرت داتا گنج بخش کی تاریخ ولادت میں اختلاف پایاجاتاہے۔ بعض بزرگان کی روایت کے مطابق آپ 400ھ میں سلطان محمود غزنوی کے عہد حکومت میں پیدا ہوئے تاہم بعض تذکرہ نگاروں اور محققین کی آراءمیں آپ کی ولادت ماہ ربیع الاول 373ھ میں ہوئی۔ حافظ عبداللہ فاروق ”شیخ علی ہجویری جو داتا گنج بخش کے نام سے زیادہ مشہور ہیں وہ 1009ءکے قریب پیدا ہوئے۔جن تذکرہ نگاروں نے آپ کی تاریخ ولادت 400ھ سے اتفاق کیا ہے ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
محمد دین فوق (داتا گنج بخش)‘ غلام جیلانی مخدوم (سیرت گنج بخش )‘ ضیاءالدین عبدالرحمن (بزم صوفیہ)‘ محمد منیر قریشی (پیر کامل )‘ پروفیسر طفیل سالک (داتا گنج بخش )‘ خالد محمود (داتا گنج بخش اور ان کا عہد )‘ پروفیسر غلام سرور رانا (حضرت داتا گنج بخش )‘ محمد نصیب (صاحب وقت)‘ محمد مسعود کھدرپوش (گنج بخش)‘ مورخ لاہور محمد دین کلیم قادری (مدینتہ الاولیائ)‘ اے جی سکندر شیخ (مقام فقر حضرت داتا گنج بخش)اور ابو العاصم محمد سلیم حماد (حیات وتعلیمات حضرت داتا گنج بخش)۔
تاہم ایک بات طے ہے کہ حضرت داتا گنج بخش سلطان محمود غزنوی کے عہد حکومت میںان کے دارالسلطنت غزنی میں پیدا ہوئے۔ اصل وطن غزنی ہونے کے باوجود آپ بالعموم ہجویری اور جلابی کے نام سے مشہور ہیں۔ غزنی شہر کے محلے جلاب اور ہجویر میں رہنے کی نسبت سے آپ جلابی اور ہجویری کہلائے۔ غرنی شہر کے ان دو محلوں جلاب اور ہجویر کے بارے میں تذکرہ نو یسوں نے خیال ظاہر کیاہے کہ آپ کے آباﺅاجداد پہلے جلاب میں رہتے تھے وہاں سے محلہ ہجویر میں چلے آئے اور آخر وقت تک یہیں قیام پذیر رہے۔ صاحب سفینتہ الاولیاءنے لکھا ہے کہ آپ کی پیدائش آپ کے ننھیال محلہ ہجویرمیں ہوئی اسی نسبت سے آپ ہجویری کہلائے۔
خاندان
آپ کا خاندان غزنی کے ممتاز اور عالم فاضل گھرانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ آپ کے نانا غزنی کی سرکردہ شخصیات میں شمار کئے جاتے تھے اور مالی اعتبار سے یہ ایک مضبوط اور مستحکم خاندان تصور کیا جاتا تھا۔ پورا خاندان روحانیت اور متصوخانہ عقائد کی بناءپر علم وعمل کا گہوارہ تھا۔ آپ کے ماموں اپنے زہد وتقویٰ کی بناءپر ”تاج الاولیائ“ کے لقب سے معروف تھے، شرافت اور صداقت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ خاندان سادات سے تعلق ہونے کی وجہ سے بھی لوگ ہمیشہ انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے اور معزز تصور کئے جاتے تھے۔
والد گرامی
ابتداءمیں آپ کو کافی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ آپ چونکہ عالم دین تھے اس لئے اپنے فارغ اوقات میں دینی اور علمی خدمات میں مصروف رہتے۔ آپ نے تمام عمر رزق حلال کمایا اور اپنے اہل وعیال کی کفالت کی۔ ہر ایک سے محبت اور خلوص سے پیش آتے۔ غریبوں، محتاجوں، مسکینوں، ضرورت مندوں کی بلاتخصیص مدد فرماتے اور ان کی دلجوئی کرتے۔ قرآن پاک کی تلاوت ان کا روزانہ کا معمول تھا ‘کم گو تھے آپ میں وہ تمام خوبیاں اور کمالات موجود تھے جو ایک متقی، پرہیزگار، زاہد اور عابد شخص کی شخصیت کالازمہ ہوتی ہیں۔ آپ کا وصال غزنی میں ہوا اور یہیں پر آپ مدفون ہوئے۔
والدہ گرامی
آپ کی والدہ ماجدہ ایک نیک سیرت اور پا کباز خاتون تھیں ان کی شادی سید عثمان بن علی سے ہوئی اور حضرت داتا گنج بخش ؒ آپ کی اکلوتی اولادتھے۔ آپ بہت شفیق تھیں‘ شرافت اور دینداری کی وجہ سے پورے خاندان میں نہایت عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ لوگوں سے بہت محبت اور ہمدردی کا سلوک روا رکھتیں۔ بہت مہمان نواز اور سلیقہ شعار خاتون تھیں‘ پردے کی پابند اور شوہرکی اطاعت اپنا فرض اولین سمجھتی تھیں۔ آپ کا وصال غزنی میں ہوا اور آپ کو آپ کے بھائی تاج الاولیاءکے مزارکے قریب دفن کیا گیا۔
حلیہ مبارک
”آپ کا قد میانہ‘ جسم سڈول اور گٹھا ہوا تھا، جسم کی ہڈیاں مضبوط اور بڑی تھیں۔ فراخ سینہ اور ہاتھ پاﺅں مناسب تھے۔ چہرہ گول تھا نہ لمبا، سرخ وسفید چمکدار رنگت،کشادہ جبین اور بال سیاہ گھنے تھے۔ بڑی اور غلافی آنکھوں پر خمدار گھنی ابرو تھیں۔ ستواںناک درمیانے ہونٹ اور رخسار بھرے ہوئے تھے چوڑے اور مضبوط شانوں پر اٹھتی ہوئی گردن تھی۔ ریش مبارک گھنی تھی آپ بڑے جاذب نظر اور پر کشش تھے“۔
گویا کہ آپ لباس کے معاملے میں کسی قسم کا تکلف نہیں برتتے تھے جو ملتا تھا صبر وشکر کے ساتھ اس کو زیب تن کرلیتے ۔ لباس دکھا وے اور نمود ونمائش کے لئے نہیں صرف تن ڈھانپنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔
تعلیم و تربیت
 غزنی ان دنوں علم وادب کا گہوارہ تھا شہر میں کئی مدرسے تھے جن میں تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام تھا۔ آپ نے قرآن مجید کی تعلیم اپنے والد یا کسی استاد سے چار سال کی عمر میں حاصل کرنی شروع کی۔ فطری طور پر خدا نے انہیں بہت اچھا حافظہ دیا تھا۔ آپ بہت ذہین تھے چنانچہ تھوڑے دنوں میں آپ نے قرآن پاک پڑھ لیا۔
حصول علم شریعت
قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت علی ہجویریؒ نے غزنی کے مختلف مدارس سے اس دور کے مروجہ علوم یعنی عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد علم فقہ‘ علم حدیث وتفسیر‘ علم منطق اور فلسفہ پر عبور حاصل کیا۔ اس طرح آپ کو علم شریعت میں پوری طرح مہارت حاصل ہوگئی۔ اس کے بعد مختلف شہروں میں علوم ظاہری و باطنی کی سعی کی۔ علمی پختگی حاصل کرنے کے لئے آپ نے جن اساتذہ سے فیض حاصل کیا ان کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔
شیخ ابوالقاسم‘ عبدالکریم بن ہوازن القشیری، ابوالفضل محمد بن الحسن الختلی، امام ابوالعباس بن محمد اشفانی، شیخ ابوسعید ابوالخیر، خواجہ احمد مظفر بن احمد بن حمدان، ابوالعباس بن محمد قصاب‘ ابو جعفر محمدبن مصباح صدلانی باب فرغانی‘ حضرت ابوعبداللہ بن علی الداغستانی‘ حضرت شیخ ابوالقاسم بن علی بن عبداللہ گرگانی کے نام قابل ذکر ہیں۔
سلسلہ بیت اورمرشد طریقت
بیعت عربی زبان کا لفظ ہے اور بارع سے نکلا ہے۔ اس کے معنی دونوں ہاتھوں کے درمیان فاصلہ کے ہیں۔ حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کا تعلق سلسلہ جنیدیہ سے ہے۔ حضرت جنید بغدادی طریقت کے شیخ المشائخ اور شریعت کے امام الائمہ ہیں۔ آپ کا یہ سلسلہ حضرت جنید بغدادی کی طرف منسوب ہے۔ مسلک جنیدیہ تمام مسالک میں معروف ہے۔ اس لئے بہت سے صوفیا روحانیت میں اس سلسلہ طریقت سے مستفید ہوئے ہیں ۔ حضرت داتا گنج بخشؒ جس زمانے میں سیرو سیاحت میں مشغول تھے تو ایک دفعہ سفر شام میں جب وہ ملک شام پہنچے تو وہاں آپ کی ملاقات حضرت ابو الفضل محمد بن حسن ختلی سے ہوئی۔ آپ ان کی عالمانہ اور عارفانہ گفتگو سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کے دست مبارک پر بیعت ہوگئے۔
تربیت اساتذہ
حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ نے یوں تو بہت سے اساتذہ کرام سے کسب فیض کیا لیکن جن سے ان کو روحانی اور دلی تعلق رہا اور جن کے فضائل کا ذکر اپنی مشہور تالیف ”کشف المحجوب “میں کیا ہے ۔ آپ قرآن اور حدیث کے زبردست عالم تھے۔ زہد و تقویٰ میں کوئی ان کے پایہ کا نہیں تھا۔ ساٹھ برس تک مسلسل لوگوں سے الگ تھلگ پہاڑوں پر یاد خدا میں وقت گزارتے تھے۔ آپ ختلان کے رہنے والے تھے اس لئے آپ کو ختلی کہاجاتاہے ۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ملک شام کے شہر دمشق کی ایک وادی ”بیت الجن“ میں گزارا۔ حضرت علی ہجویری ؒفرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے زیادہ بارعب‘ صاحب جلال اور دبد بے والا انسان نہیں دیکھا۔ آپ بہت کم کھاتے اور اپنے عقیدت مند وں کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔ آپ صوفیوں کے ظاہری لباس اور روایات کے پابند نہیں تھے۔ بہت معمولی لباس زیب تن کیا کرتے تھے‘ دھو کر پھر وہی پہن لیتے‘ پھٹ جاتا پیوند لگا لیتے ، یہاں تک کہ اصل کپڑے کا نشان بھی باقی نہ رہا۔
مرشد کی کرامات
حضرت علی ہجویری ؒایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اپنے پیرو مرشد کے ساتھ بیت الجن سے دمشق کا سفرکررہا تھا راستے میں بارش ہوگئی جس کی وجہ سے بے انتہا کیچڑ ہوگیا ہم بہت مشکل سے چل رہے تھے کہ اچانک میری نظر مرشد پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کا لباس بھی خشک ہے اور پاﺅں پر بھی کہیں کیچڑ کا نشان نہیں۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی دریافت کیا تو فرمایا ہاں جب سے میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ہر قسم کے وہم اور شبہ کو دور کردیا ہے اور دل کو حرص ولالچ کی دیوانگی سے محفوظ کر لیا ہے تب سے اللہ تعالی نے میرے پاﺅں کو کیچڑ سے محفوظ کر رکھا ہے۔
مشہور کرامات
روایت ہے کہ ایک روز سید علی ہجویریؒ اپنی قیام گاہ پر تشریف فرما تھے اور یاد الٰہی میں مصروف تھے کہ ایک بوڑھی عورت کا گزر ادھر سے ہوا‘ جس کے سر پر دودھ سے بھرا ہوا مٹکا تھا۔ آپ نے اس عورت سے کہا کہ تم اس دودھ کی قیمت لے کر دودھ دے دو۔ اس عورت نے جواب دیا کہ یہ دودھ آپ کو نہیں دے سکتی، کیونکہ یہ دودھ رائے راجو کو دیتی ہوں، اگر نہ دیں تو اس کے اثر سے بھینسوں کے تھنوں سے دودھ کی جگہ خون نکلنے لگتاہے۔
آپ نے عورت کی یہ بات سن کر کہا کہ اگر تم یہ دودھ ہمیں دے جاﺅ، تو اللہ کی رحمت اور فضل سے تمہاری بھینسیں پہلے سے بھی زیادہ دودھ دیں گی اور تم ہر قسم کی آفت سے بھی محفوظ رہوگی۔ آپ کی یہ باتیں سن کر وہ عورت رضامند ہوگئی، چنانچہ اس نے دودھ آپ کو دے دیا اور واپس لوٹ گئی۔
شام کو جب اس نے اپنے جانور وں کو دوہا تو انہوں نے روز کی نسبت زیادہ دودھ دیا یہاں تک کہ اس گھر کے سب برتن بھر گئے اللہ تعالی نے اس کے دودھ میں برکت ڈال دی۔ یہ خبر جلد ہی لاہور کے قرب وجوار میں پھیل گئی کہ لاہور کے باہر اللہ کا ایک فقیر ہے اس کو دودھ دیں تو دودھ اللہ کی برکت سے بڑھ جاتاہے۔ چنانچہ دودھ میں برکت کی خاطر لوگ آپ کے پاس دودھ لانے لگے، آپ اپنی ضرورت کا دودھ لے کر باقی دودھ لوگوں میں تقسیم کردیتے ۔ آپ کی اس کرامت کو دیکھ کر لوگوں نے رائے راجو کو دودھ دینا بند کر دیا اور اس کے خلاف ہوگئے۔
 رائے راجو کو جب اصل حقیقت کا علم ہوا کہ اب اس فقیر کی دعا سے اس کا جادو بھینسوں کے تھنوں پر نہیں چلتا تو اس نے سوچا کہ کیوں نہ اپنے جادو کو تیز کر کے فقیر کو یہاں سے بھگا دیا جائے۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ کے فقیروں کے ساتھ خدا کی مدد شامل حال رہتی ہے۔ چنانچہ انتقامی جذبے کے تحت وہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے ہمارا دودھ تو بند کرا دیا اب ہمارے ساتھ مقابلہ کرو ۔ رائے راجو نے زبان میں کچھ پڑھا اور ہوا میں اڑنے لگا اور خدا کے فضل سے آپؒ کی جوتیاں ہوا میں بلند ہوکر اس کے سر پر پڑنے لگیں تو وہ زمین پر اتر آیا۔
آخر وہ آپؒ کے قدموں میں گر گیا اور مسلمان ہوگیا۔ یہی بے بسی اس کا مقدر جگاگئی اور وہ سلوک کی منزل پر گامزن ہوگیا اور شیخ ہندی ؒ بن گیا۔
وصال مبارک
حضرت داتا گنج بخش ؒ نے اپنی زندگی کے 34 سال لاہور شہر میں گزارے اور اسی شہر میں ہی چند روز کی علالت کے بعد اس جہانِ فانی کو خیر بادکہا اور اپنے حجرے میں ہی جہاں ان کا قیام تھا انتقال فرمایا اور آپ کے خلیفہ حضرت شیخ ہندی ؒ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو اسی مقام پر جہاں آپ نے وفات پائی تھی دفن کر دیاگیا۔ جہاں آج بھی آپ کا مزار مرجع خلائق ہے اور آسمان ان کی لحد پر شبنم افشانی کر تا ہے۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Archive

About

subtainhdr

Google+ Badge

PAKISTAN TIME

Blog Archive