Wednesday, 30 October 2013

افضل عمل


مکمل تحریر اور تبصرے>>

Monday, 28 October 2013

روحانی غسل

طریقہ روحانی غسل: روحانی غسل کا طریقہ یہ ہے کہ آخری چھ سورتیں مع تسمیہ اول و آخر 3 دفعہ درود شریف کے ساتھ تین مرتبہ پڑھیں اور اسکے بعد بیت الخلاء کی دعا:بِسْمِ اﷲِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ  بِکَ مِنَ الْخُبُثِ  وَالْخَبَائِثِ
پڑھ کر بایاں پائوں غسل خانےمیں رکھ کر اندر چلے جائیں‘ سنت کے مطابق غسل کریں‘ نہاتے وقت مسلسل دعا دل ہی دل میں پڑھتے رہیں‘ زبان سے بالکل نہ پڑھیں اور اپنی ہر بیماری اور پریشانی کا تصور کرتے رہیں کہ وہ بھی اس پانی کے ساتھ دھل رہی ہیں اور اس کے بعد جب باہر آئیں تو سیدھا پائوں باہر رکھیں اور پھر اسی ترتیب سے آخری چھ سورتیں پڑھیں جیسے پہلے پڑھیں تھیں۔آخری چھ سورتیں: (1) سورہ کافرون 2) )سورہ نصر (3)سورہ لھب (4)سورہ اخلاص (5)سورہ فلق (6)سورہ ناس۔ نوٹ: غسل جنابت کی صورت میں نہانے سے پہلے چھ سورتیں نہ پڑھیں بلکہ نہانے کے بعد جب باہر آجائیں تو بعد میں چھ مرتبہ پڑھ لیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

حدیث قدسی

حدیث قدسی وہ حدیث ہے کہ جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس کی نسبت  اللہ عز و جل کی طرف کریں یعنی نبی ﷺ بیان کریں کہ اللہ تعالی نے یوں فرمایا ہے یا اللہ تعالی ایسے فرماتا ہے۔چنانچہ حدیث قدسی میں اللہ تعالی کے کلام کو جو قرآن کے علاوہ ہوتا ہے اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کچھ چیزیں اللہ کی طرف منسوب کر کے فرمایا کرتے تھے مگر قرآن میں وہ موجود نہیں، ایسی احادیث کے صرف معانی اللہ کی طرف سے القاء ہوئے، الفاظ اور اسلوب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے تھی اس طرح کی احادیث کو ’’حدیثِ قدسی‘‘ کہا جاتا ہے۔ (مباحث فی علوم القرآن ص:25)
                                                                        حدیث نبوی ﷺمیں الفاظ و معانی رسول اللہﷺ کے اپنے ہوتے ہیں،البتہ حدیث نبوی بھی وحی الٰہی کے تابع ہوتی ہےاورحدیث قدسی کو قدسی اس کی عظمت ورفعت کی وجہ سے کہا جاتا ہےیعنی قدسی کی نسبت قدس کی طرف ہے،جو اس حدیث کے عظیم ہونے کی دلیل ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

حضرت عمر رضی اللہ عنہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تقویٰ
حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد ( حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ بازار سے گزرے۔ ان کے ہا تھ میں کو ڑا بھی تھا، انہوں نے آہستہ سے وہ کوڑا مجھے مارا جو میر ے کپڑے کے کنارے کو لگ گیا اور فرمایا، راستہ سے ہٹ جاﺅ ۔ جب اگلا سال آیا تو آپ کی مجھ سے ملا قات ہوئی ، مجھ سے کہا اے سلمہ ! کیا تمہا را حج کا اراد ہ ہے؟ میں نے کہا جی ہا ں ، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور مجھے چھ سو درہم دئیے اور کہا انہیں اپنے سفر حج میں کام لے آنا اور یہ اس ہلکے سے کو ڑے کے بدلہ میں ہیں جو میں نے تم کو ما را تھا۔ میں نے کہا کہ اے امیر المومنین! مجھے تو وہ کوڑا یا د بھی نہیں رہا ۔فرما یا لیکن میں تو اسے نہیںبھو لا ۔ یعنی میں نے مار تو دیا لیکن سارا سال کھٹکتا رہا۔ (حیا ة الصحابہ جلد 2 صفحہ 125
مکمل تحریر اور تبصرے>>

معدے کے تمام امراض کیلئے ایک خاندانی راز

ترکیب ۔

چینی باریک ایک پائو پسی ہوئی‘ میٹھا سوڈا ایک چھٹانک اور ست پودینہ ایک تولہ‘ یعنی پورا ایک تولہ(12 گرام) چینی اور میٹھا سوڈا آپس میں ملائیں اور پھر ست پودینہ اس میں ملا کر خوب رگڑیں اتنا کہ چینی میٹھا سوڈا اور ست پودینہ آپس میں یکجان ہوجائیں۔ کسی ہوا بند ڈبے میں بوتل میں محفوظ رکھیں۔ زیادہ مقدار میں نہ بنائیں‘ نمی کے موسم میں جم جاتا ہے۔ بناتے رہیں‘ استعمال کرتے رہیں‘ آدھا چمچ کھانے کے بعد‘ دن میں تین دفعہ بھی لے سکتے ہیں‘ اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو بار بار بھی لے سکتے ہیں۔

 اس کا سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ سینے کی جلن‘ پیاس کی زیادتی‘ گرمی کی شدت‘ کھانا ہضم نہ ہونا یا ہضم ہوئے بغیر نکل جانا‘ دائمی قبض ہونا‘ اجابت کھل کر نہ آنا‘ ذہنی تفکرات‘ ذہنی دبائو ‘ بچوں کے دست‘ اجابت‘ بچوں کی الٹی‘ بچوں کا موٹا تازہ نہ ہونا‘ بھوک نہ لگنا‘ طلب غذا کی نہ ہونا‘ تھوڑا سا کھا کر چھوڑ دینا اور بڑوں کیلئے ایسے جو قے متلی سے بدحال ہوجاتی ہیں یا کسی چیز کو کھانے کو جی نہیں چاہتا‘ یا ایسے مصروف لوگ جو وقت بے وقت کھانا کھاتے ہیں پھر انہیں صحیح ہضم نہیں ہوتا‘ پیٹ بڑھ رہا ہے‘ جسم میں چربی بھر رہی ہے۔ 

گرمی کے روزوں میں‘ بندش میں جلن میں پیاس کی زیادتی کو ختم کرتا ہے‘ خاص طور پر افطاری کے بعد جو گھبراہٹ ہوتی ہے اس کے استعمال کرنے سے اس کو فوراً افاقہ ہوتا ہے۔ اگر صبح سحری کے بعد اس کو کھالیا جائے تو سارا دن پیاس‘ بھوک‘ شدت حدت اور نڈھالی سے روزے دار بچا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دوا یعنی سفید پائوڈر دل کی گھبراہٹ کیلئے دل کے وہ مریض جو بائی پاس کراچکے ہیں یاکرانے والے ہوں یا دل کے کسی بھی مرض میں مبتلا ہوں ان کیلئے بہت موثر ثابت ہوا ہے۔ 

 دل کی گھبراہٹ کیلئے‘ اعصاب کے کھچائو کیلئے‘ طبیعت کی بے چینی اور نڈھالی کیلئے‘ ذہن کی اور طبیعت کی تراوٹ کیلئے بہت زیادہ موثر۔ 

 یہ دوا ہر موسم میں مفیدہے۔ یہ صرف موسم گرما کیلئے مخصوص نہیں‘ جتنا فائدہ موسم گرما میں دیتی ہے اتنا ہی فائدہ موسم سرما میں دیتی ہے

 

مکمل تحریر اور تبصرے>>

  نعلینِ پاک سے حصولِ برکت

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو نعلین پاک استعمال فرمائے وہ بھی بڑے بابرکت ہو گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ان نعلین پاک کو تبرکاً محفوظ رکھا اور ان کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوتے رہے۔ ان بابرکت نعلین پاک کے حوالے سے چند احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں :
1۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک اور ایک پیالہ بھی محفوظ تھا جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی نوش فرماتے تھے۔ نعلین پاک کے حوالے سے حضرت عیسیٰ بن طہمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں :
أخرج إلينا أنس نعلين جرداوين، لهما قبالان، فحدثني ثابت البُناني بعد عن أنس : أنهما نعلا النبي صلي الله عليه وآله وسلم.
بخاري، الصحيح، 3 : 1131، ابواب الخمس، رقم : 2940
بخاري، الصحيح، 5 : 2200، کتاب اللباس، رقم : 5520
بيهقي، شعب الايمان، 5 : 177، رقم : 6269 - 6270
عسقلاني، فتح الباري، 10 : 312، رقم : 5520
ترمذي، الشمائل المحمدية، 1 : 83، باب في نعل رسول الله، رقم : 78
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں بغیر بال کے چمڑے کے دو نعلین مبارک نکال کر دکھائے جن کے دو تسمے تھے۔ بعد میں ثابت بُنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی کہ یہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مبارک ہیں۔‘‘
2۔ ایک دفعہ حضرت عبید بن جُریح نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے پوچھا کہ ’’میں آپ کو بالوں سے صاف کی ہوئی کھال کی جوتی پہنے ہوئے دیکھتا ہوں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما نے فرمایا :
فإنی رأيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يلبس النعل التي ليس فيها شعر و يتوضأ فيها فأنا أحب أن ألبسها.
بخاري، الصحيح، 1 : 73، کتاب الوضوء، رقم : 164
ترمذی، الشمائل المحمديه، 1 : 84، باب فی نعل رسول اﷲ، رقم : 79
بخاري، الصحيح، 5 : 2199، کتاب اللباس، رقم : 5513
مسلم، الصحيح، 2 : 844، کتاب الحج، رقم : 1187
ابوداؤد، السنن، 2 : 150، کتاب المناسک، رقم : 1772
ابن حبان، الصحيح، 9 : 79 : رقم : 3763
بيهقي، السنن الکبریٰ، 1 : 287، رقم : 1272
بيهقي، السنن الکبریٰ، 5 : 37، رقم : 8762
شافعی، السنن المأثوره، 1 : 373، رقم : 503
مالک، المؤطا، 1 : 333، رقم : 733
احمد بن حنبل، المسند، 2 : 66، 110، رقم : 5338، 5894
ابن عبدالبر، التمهيد، 21 : 74
زرقانی، شرح المؤطا، 2 : 331
مزی، تهذيب الکمال، 19 : 194، رقم : 3709
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی جوتیاں پہنے ہوئے دیکھا ہے جس میں بال نہیں ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں وضو فرماتے تھے لہٰذا میں ایسی جوتیاں پہننا پسند کرتا ہوں۔‘‘
3۔ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’المواہب اللدنیۃ (2 : 118۔119)‘ میں لکھتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادمین میں سے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں تکیہ، مسواک، نعلین اور وضو کے لیے پانی لے کر حاضر رہتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام فرماتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نعلین مبارک پہنا دیتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف رکھتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک اٹھا کر بغل میں دبالیتے تھے۔
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں :
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک کی بابت ابوبکر احمد بن امام ابو محمد عبداللہ بن حسین قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں :
و نعلٍ خضَعْنا هيبةً لِبَهائِها
و إنَّا متی نَخضَع لها أبدًا نعلو
فَضَعْها علي أعلَی المَفارِق إنها
حقيقَتُهَا تاجٌ و صورتُها نعلٌ
(ایسے جوتے کہ جن کی بلند و بالا عظمت کو ہم تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ اس عظمت کو تسلیم کر کے ہی ہم بلند ہوسکتے ہیں۔ اس لیے انہیں بلند ترین جگہ پر رکھو کیونکہ درحقیقت یہ (سَر کا) تاج ہیں اگرچہ دیکھنے میں جوتے ہیں۔)
قسطلانی، المواهب اللدنيه، 2 : 470
جب امام فخانی نے پہلی مرتبہ نعلین پاک دیکھے تو بے ساختہ پکار اٹھے :
وَ لو قيل للمجنونِ لَيلیٰ و وَصْلُها
تُريدُ أمِ الدنيا و ما فی زوايها
لقال غُبارُ من ترابِ نِعالها
أحبُّ إلی نفسی و الشفاء لِی بَلائها
(اور اگر لیلیٰ کے مجنوں سے پوچھا جاتا کہ تو لیلیٰ سے ملاقات اور دنیا کے مال و زر میں سے کس چیز کو ترجیح دے گا؟ تو وہ بے اختیار پکار اٹھتا : ’’اس کی جوتیوں سے اٹھنے والی خاک مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہے اور اس کی مصیبتیں رفع کرنے کے لئے سب سے بہترین علاج ہے۔‘‘)
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ علماء متقدمین و متاخرین نے نعلینِ پاک کے متعلق متعدد کتب تالیف کی ہیں مثلاً :
  1. مولانا شہاب الدین احمد مقری نے ’فتح المتعال فی مدح النعال‘ نامی کتاب لکھی۔
  2. مولانا اشرف علی تھانوی نے ’نیل الشفاء بنعال المصطفے‘ نامی رسالہ لکھا جو کہ ان کی کتاب ’زاد السعید‘ میں پایا جاتا ہے۔
  3. مولانا محمد زکریا کاندھلوی لکھتے ہیں :
’’نعل شریف کے برکات و فضائل مولانا اشرف علی تھانوی کے رسالہ ’زاد السعید‘ کے آخر میں مفصل مذکور ہیں جس کو تفصیل جاننا مقصود ہو، اس میں دیکھ لے۔ مختصر یہ کہ اس کے خواص بے انتہا ہیں، علماء نے بارہا تجربے کئے ہیں۔ اسے اپنے پاس رکھنے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوتی ہے، ظالموں سے نجات اور لوگوں میں ہر دلعزیزی حاصل ہوتی ہے، غرض اس کے توسل سے ہر مقصد میں کامیابی ہوتی ہے، طریقِ توسل بھی اسی میں مذکور ہے۔‘‘
نقشِ نعلین پاک کی آزمائی ہوئی فوائد و برکات میں سے یہ بھی ہے کہ جو شخص اس کو حصولِ برکت کی نیت سے اپنے پاس محفوظ رکھے تو اس کی برکت سے وہ شخص ظالم کے ظلم سے، دشمنوں کے غلبہ سے، شیاطین کے شر اورہر حاسد کی نظرِ بد سے حفاظت میں رہے گا۔ اسی طرح اگر کوئی حاملہ عورت شدت دردِ زہ میں اس کو اپنے دائیں پہلو پر رکھے تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت و مشیت سے اس خاتون پر آسانی فرمائے گا۔ اس نقش پاک کی برکتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ نظرِ بد اور جادو ٹونے سے آدمی امان میں رہتا ہے۔
نقشِ نعلین پاک کے حوالے سے امام ابن فہد مکی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر ائمہ کی ایک کثیر تعداد نے اپنا اپنا یہ تجربہ بیان کیا کہ یہ جس لشکر میں ہو گا وہ فتح یاب ہو گا جس قافلے میں ہو گا وہ بحفاظت اپنی منزل پر پہنچے گا، جس کشتی میں ہو گا وہ ڈوبنے سے محفوظ رہے گی، جس گھر میں ہو گا وہ جلنے سے محفوظ رہے گا، جس مال و متاع میں ہو گا، وہ چوری سے محفوظ رہے گا اور کسی بھی حاجت کے لئے صاحبِ نعلین (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے توسل کیا جائے تو وہ پوری ہو کر رہے گی اور اس توسل سے ہر تنگی فراخی میں تبدیل ہو گی۔
مصر کے ایک فاضل ادیب علامہ شرف الدین طنوبی رحمۃ اللہ علیہ نے نقش نعلین پاک کے فوائد و برکات کا تذکرہ بڑے ہی محبت بھرے اندازکے ساتھ اپنے ان اشعار میں کیا ہے۔
يا عاشقاً نعل الحبيب وما رأی
تمثالها هنيت بالتمثال
’’اے عاشقِ حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے نعل حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کا نقشِ پاک مبارک ہو۔‘‘
ضعه علی خديک ثم علی الحشا
و عليه و إلی الثمک المتول
’’(اے عاشق) اسے اپنے رخسار پر رکھ پھر اسے اپنے پہلو پر رکھ اور اسے اپنے چہرے اور (آنکھوں پر) لگا کر (اظہارِ محبت و عقیدت کر)‘‘
واعکف عليه عسی تفوز بيُمنه
فالسر قد يسری إلی الأشکال
’’نقشِ نعل پاک کے ساتھ تعلق کو پختہ کر یقینا اس کی برکت سے تجھے کامیابی حاصل ہو گی اور خوش ہو جا کہ اس کے ذریعہ تیری مشکلیں آسان ہوجائیں گی۔‘‘
واجعل جبينک فوقه متبرکا
تحوی الفخار و غاية الأمال
’’اپنی جبیں نیاز کو حصول برکت کے لئے نقش نعلین پاک پر جھکا دو، یہی تیرے لئے باعث افتخار ہے اور تمام امیدوں کا بر آنا اس میں پنہاں ہے۔‘‘
واذکر حبيبک إذ بدت آثاره
وکأنه بذل العلی بوصال
’’اپنے محبوب (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو یاد کر جب تو اُن کے آثار کو پائے گویا ان آثار کو پانا ہی بلند مرتبہ اور وصالِ (حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہے۔‘‘
إن غاب عنک ولو تعاين شکلها
فاعطف علی تمثالها المتعال
’’اگر تیرے پاس نعلینِ پاک نہ ہو تو اس کے نقش کا تصور کر سکے تو (یہ تمہارے لئے بہتر ہے، لہٰذا) تو اس کے عظیم نقش سے محبت کا اظہار کر۔‘‘
أکرم بتمثال تزايد يُمنه
روت الثقات له جميل فعال
’’نعلین پاک کے نقش کے ساتھ اظہارِ محبت کر اس سے برکات میں اضافہ ہو گا اور مستند علماء نے بیان کیا ہے کہ اس کے کئی فوائد ہیں۔‘‘
إن أمسکته حامل بيمينها
رأت الخلاص به و حسن خصال
’’اگر نعلین پاک کا نقش کوئی حاملہ عورت اپنے دائیں پہلو پر رکھے تو اس سے اس کی تکلیف دور ہوجائے گی اور نیک خصلت والا بچہ پیدا ہو گا۔‘‘
أو من به داء لأصبح ناقها
من ضر أوجاع ومن أوجال
’’اسی طرح اگر کوئی خاتون کسی بیماری میں مبتلا ہو تو اس کے صدقے سے اس کا درد اور بے چینی دور ہو جائے گی۔‘‘
أو کان فی جيش لأصبح ظاهرا
أو منزل لنجا من الإشعال
’’اور اس طرح اگر وہ نقش کسی لشکر کے پاس ہو تو وہ (دشمن پر) غالب آ جائے گا اور اگر یہی نقش کسی گھر میں ہو تو وہ گھر آگ لگنے سے محفوظ رہے گا۔‘‘
وبه الأمان من العدو بنظرة
والسحر والشيطان ذی الإضلال
’’اور یہی نقش دشمن، نظرِبد، جادو اور گمراہ کرنے والے شیطان سے محفوظ رہنے کا ذریعہ بنتا ہے۔‘‘
والأمن من غرق ومن باغ ومن
کيد الحسود و سارق ختال
’’اور اسی کی برکت سے انسان ڈوبنے سے، ظالم کے ظلم سے، حاسد کے حسد اور چور کے فریب سے محفوظ رہتا ہے۔‘‘
فيه تمسک بالحبيب المصطفیٰ صلی الله عليه وآله وسلم
فعسی به تنجو من الأهوال
’’ اس نقش کے ذریعے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلق حبی مضبوط ہوتا ہے اور یقیناً اسی کے ذریعے خطرات سے نجات ملتی ہے۔‘‘
لا يستوی قلب المعذب فی الهوی
لواعج الأدواء و قلب الخال
’’محبت میں گرفتار دل جس کا علاج عشق کی دوا سے کیا جاتا ہے اور محبت سے خالی دل کبھی برابر نہیں ہوتے۔‘‘
مقری، فتح المتعال فی مدح النعال : 404، 405
برکاتِ نعلینِ پاک کے حوالے سے بعض واقعات و مشاہدات جن کو امام مقری نے اپنی کتاب ’’فتح المتعال فی مدح النعال‘‘ میں بیان کیا ہے، درج ذیل ہیں :

1۔ شدید درد کا ازالہ

ابو جعفر احمد بن عبدالمجید جو کہ بہت بڑے عالم با عمل اور متقی و پرہیزگار شخص تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک طالب علم کو نعلین پاک کا نقش بنوا دیا۔ ایک دن وہ میرے پاس آ کر کہنے لگا کہ میں نے گذشتہ رات اس نقش کی ایک حیران کن برکت کا مشاہدہ کیا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کونسی ایسی عجیب برکت دیکھی ہے؟ تو وہ کہنے لگا کہ میری اہلیہ کو اچانک اتنا شدید درد ہوا کہ جس کی وجہ سے وہ قریب المرگ تھی پس میں نے نعلین پاک کا یہ نقش اس کے درد والی جگہ پر رکھا اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی :
’’اللّٰهُمَّ أرِنَا بَرکَة صاحب هٰذا النَعلِ‘‘
’’اے اللہ! آج ہم پر صاحبِ نعل (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی برکت و کرامت ظاہر فرمادے۔‘‘
اس طالب علم نے بیان کیا کہ پس اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے میری بیوی کو فوراً شفا عطا فرمائی۔
قسطلانی، المواهب اللدنيه، 2 : 466، 467
مقری، فتح المتعال فی مدح النعال : 469

2۔ مفتی محمد قصار المغیشی حادثہ میں محفوظ رہے

شہر فاس کے مفتی شیخ محمد قصار کے بچپن کا واقعہ ہے جس کو ثقہ اہل علم نے بیان کیا ہے : وہ یہ کہ بچپن میں مفتی رحمۃ اللہ علیہ صاحب اپنے بعض رشتہ داروں کے ساتھ اپنے گھر کے نچلی منزل میں بیٹھے تھے۔ یہ بھی شہر فاس کی دیگر عام عمارتوں کی طرح ایک بڑی عمارت تھی جس کی بڑی بڑی دیواریں اور اونچے کمرے تھے۔ ان لوگوں کے سروں کے عین اوپر دیوار پر نقشِ نعلین پاک اس قدر بلندی پرلگا ہوا تھا کہ اگر کوئی شخص کھڑا ہو تو وہ سر کے برابر ہو۔ اللہ کی شان اوپر والی منزل نچلی منزل پر گر گئی اور پوری عمارت منہدم ہوگئی۔ لوگوں نے ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کی موت کا یقین کر لیا اور ایک دن سے زائد وہ ملبے تلے دے رہے۔ ایک دن کے بعد لوگ کفن دفن کی غرض سے ملبہ ہٹاتے ہٹاتے ان تک پہنچے تو یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ نیچے دبے ہوئے جملہ افراد نقشِ نعلینِ پاک کی برکت سے زندہ و سلامت ہیں اور انہیں کوئی گزند تک نہیں پہنچی۔
یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلینِ پاک کا صدقہ تھا کہ وہ اس جان لیوا حادثہ میں بال بال بچ گئے، ہوا یوں کہ جب اوپر والی دیوار گرگئی تو وہ ان پر مانند خیمہ ٹھہر گئی۔ دیوار کا اوپر والا حصہ اس جگہ سے جا لگا جس کے نیچے نعلین پاک تھا اور نچلا حصہ زمین میں کھڑا ہو گیا جس کے بعد مٹی پتھر وغیرہ پہاڑ کی طرح اوپر سے نیچے گرتے رہے، یہ لوگ اس کے نیچے محفوظ رہے۔ یوں اللہ سبحانہ و تعالی نے نعلین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے ان کو ہر قسم کی تکلیف اور نقصان سے اپنی حفاظت میں رکھا۔
مقری، فتح المتعال فی مدح النعال، 470، 471

3۔ شیخ عبدالخالق بن حب النبی کا مشاہدہ

1۔ شیخ عبدالخالق بن حب النبی مالکی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک سال نصف رمضان کو مجھے ایک پھوڑا نکل آیا اور کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ کیا ہے اس کی وجہ سے مجھے سخت تکلیف لاحق ہوئی۔ میں اس مرض کے ماہر اطباء اور جراح کے پاس گیا مگر کوئی بھی اس تکلیف کو سمجھ سکا اور نہ کوئی اس کا علاج تجویز کر سکا۔ مجھے شدت تکلیف نے بے چین کیا ہوا تھا۔ پھر جب اچانک مجھے اس نقشِ نعلِ پاک کے فضائل و برکات یاد آئے تو میں نے اس نقش کو جائے تکلیف پر رکھا اور دعا کی :
اللّٰهُمَّ إنِّی أسئلُکَ بِحَقّ نَبِيّکَ مُحَّمَد صلی الله عليه وآله وسلم مَن مشی بالنعل أن تُعَافِينی مِن هٰذا المرض يا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.
’’اے اللہ! تجھ سے تیرے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ دیتے ہوئے سوال کرتا ہوں جو کہ اس نعل مبارک میں چلتے رہے ہیں جس کا یہ نقش ہے۔ اے سب سے زیادہ رحم فرمانے والے پروردگار! مجھے اس بیماری سے شفا عطا فرما۔‘‘
وہ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے ایک دن کے اندر ایسا افاقہ ہوا گویا کہ تکلیف تھی ہی نہیں۔‘‘
2۔ اسی طرح ان کی ایک بچی تھی جس کی آنکھیں ایسی خراب ہوئیں کہ اطباء اسکے علاج سے عاجز آگئے ایک دن اس بچی نے ان سے کہا : میں نے سنا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعل پاک کے نقش کے بہت زیادہ فوائد و برکات ہیں مجھے بھی لاکر دیں، پس انہوں نے اس کو نقش مبارک دیا، اس بچی نے نقش کو اپنے آنکھوں پر رکھا تو نقش نعلین پاک کی برکت سے اس کی آنکھوں کی بیماری ختم ہوگئی۔

4۔ امام مقری کا مشاہدہ

1۔ صاحب فتح المتعال امام مقری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
اس نقشِ پاک کی فوائد و برکات کا میں نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔ ہوا یوں کہ میں ذیقعدہ شریف 1027ھجری کو غرب جزائر میں ایک بحری جہاز پر سفر کر رہا تھا۔ سخت سردی کا موسم تھا۔ دریا خوب طغیانی پر تھا۔ سیلاب کے ایک تیز ریلے کے ساتھ جہاز کے کئی تختے ٹوٹ گئے، ہم سب ہلاکت کے قریب پہنچ گئے اور تمام لوگ اپنی نجات سے مایوس ہوگئے اور موت کا سامنا کرنے کے لئے تیار تھے کہ میں نے جہاز کے کپتان کے پاس نقش نعلین بھیجا کہ اس کی برکت سے خیر کی امید رکھے چنانچہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہم سب پر کرم فرمایا اور ہمیں صحیح و سلامت پار لگا دیا اور اسے سمندری سفر کے ماہرین نے بڑی کرامت کی نشانی شمار کیا۔
مقری، فتح المتعال فی مدح النعال : 472
2۔ اسی سفر کے دوران راستے میں ایک مقام پر ڈاکوؤں کا قبضہ تھا جو لوگوں کو لوٹتے تھے ان کے پاس بہت سارا اسلحہ اور کثیر لوگ تھے۔ اللہ نے ہمیں اس نقشِ پاک کی برکت سے ان کی آنکھوں سے چھپائے رکھا اور ہم مدینہ منورہ میں صحیح سالم پہنچ گئے۔
3۔ اسی طرح ایک دن ہم دریا میں سفر پر تھے کہ سامنے ایک بہت بڑا پتھر ظاہر ہوا کہ اگر ہماری کشتی اس سے ٹکرا جاتی تو پاش پاش ہو جاتی۔ ہماری کشتی اس پہاڑی نما غار میں گھس گئی۔ اس پتھر نے ہمیں آگے پیچھے دائیں بائیں سے اس طرح گھیر لیا کہ اس پتھر اورہماری کشتی کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا۔ اس وقت دریا کی موجیں پورے جوبن پر تھیں۔ ہمیں یقین ہوگیا کہ اب تو ہماری کشتی ضرور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تباہ ہو جائے گی۔ پس ہم نے نقش نعلین کے ساتھ توسل کیا تو اللہ نے ہمیں اس مشکل سے رہائی عطا فرمائی۔
4۔ اسی طرح مجھ سے ایک ثقہ شخص نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ اسے ایک شدید مرض لاحق ہوگیا تھا جس کی وجہ سے وہ قریب المرگ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا کہ نقشِ نعلین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے توسل کرو، اس نے ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے فضل و کرم فرمایا اور وہ اس کی برکت سے شفایاب ہوگیا۔
5۔ اسی طرح یہ بھی مجھے بعض قابلِ اعتماد احباب نے بتایا کہ انہوں نے کئی دفعہ ایسے ممالک کا سفر کیا جن کے راستوں پر چوروں، رہزنوں کا ہر وقت خوف رہتا تھا اور عام طور پر ان کی لوٹ مار سے کوئی بھی مسافر نہیں بچتا تھا مگر چونکہ ان کے پاس نقشِ نعلینِ پاک تھا کئی مرتبہ ان کاسامنا چوروں کے ساتھ ہوا لیکن اس نقش کی برکت سے اللہ نے انہیں ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
مقری، فتح المتعال فی مدح النعال : 474 - 475
اس بحث سے ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے پناہ عشق و محبت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشیاء کی تعظیم و تکریم ہی زندگی کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ جیسا کہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور (ص)
تو پھر کہیں گے کہ ہاں، تاجدار ہم بھی ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے>>

Sunday, 27 October 2013

اصحاب رسول کی معاشی زندگی

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا شمار عظیم المرتبت صحابہؓ میں ہوتا ہے۔ امیرالمومنین بننے کے بعد بھی انتہائی سادہ زندگی گزار کر امت کو سادگی اور قناعت کا درس دیا کہ یہ امت دنیوی جاہ و جلال سے بچ کر اپنی حقیقی منزل کی تیاری کرے۔ آپ کا نام عمرؓ اور فاروق لقب ہے، آپ قریش کی شاخ بنی عدی سے تعلق رکھتے تھے اور آٹھویں پشت میں آپ کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتا ہے۔ آپ کی مدتِ خلافت 13ھ تا 24ھ رہی۔ آپ کی خلافت کے دوران ہونے والی فتوحات اور اسلامی سرحدوں میں مسلسل اضافہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اور اسی طرح عدلِ فاروقی بھی ہمارے ہاںمشہور ہے، لیکن ہم یہاں حضرت عمرؓ کی معاشی اور خانگی زندگی کے متعلق چند واقعات بیان کریں گے، جن سے نصف دنیا پر حکمرانی کرنے والے عادل حکمران کی معاشی اور خانگی زندگی کے متعلق آگاہی حاصل ہوگی کہ اصل کامیابی دنیوی طاقت، جاہ و منصب نہیں، بلکہ حقیقی کامیابی اپنے آپ کو دنیوی آلائشوں سے پاک رکھنا ہے۔ حضرت طلحہؓ کہتے ہیں کہ قبولِ اسلام اور ہجرت کے معاملے میں بہت سے لوگوں کو حضرت عمر ؓ پر فوقیت حاصل تھی لیکن زہد و قناعت میں وہ سب سے آگے تھے۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر ؓ کو کچھ مال دینا چاہا تو آپؓ نے فرمایا کہ مجھ سے زیادہ حاجت مند موجود ہیں جو اس کے زیادہ مستحق ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے لے لو، پھر تمہیں اختیار ہے کہ اسے اپنے پاس رکھو یا صدقہ کردو۔ اگر انسان کو بے طلب مال مل جائے تو اسے لے لینا چاہیے۔ (ابو دائود) حضرت عمر ؓ نے کبھی بھی نرم کپڑا نہیں پہنا۔ بدن پر بارہ بارہ پیوند لگے کپڑے، سر پر پھٹا ہوا عمامہ اور پائوں میں پھٹی ہوئی جوتیاں ہوتی تھیں۔آپ ؓ اسی حالت میں قیصر و کسریٰ کے سفیروں سے ملتے۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓاور حضرت حفصہ ؓ نے آپؓ سے کہا کہ امیرالمومنین اب اللہ نے ہمیں کشادہ حال کردیا ہے، بادشاہوں کے سفراء اور عرب کے وفود آتے ہیں، اس لیے آپ کو اپنی طرزِ معاشرت میں تبدیلی لانی چاہیے۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ افسوس تم دونوں امہات المو منین ہوکر مجھے دنیا طلبی کی ترغیب دیتی ہو۔ عائشہؓ ! کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کو بھول گئیں کہ جب آپ کے گھر میں صرف ایک کپڑا ہوتا تھا جس کو دن کو بچھاتے اور رات کو اوڑھتے تھے۔ حفصہؓ! تم کو یاد نہیں ہے کہ ایک دفعہ تم نے بستر کو دوہرا کرکے بچھایا اور اس کی نرمی کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر سوتے رہے۔ بلالؓ نے اذان دی تو آنکھ کھلی۔ اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حفصہ! تم نے یہ کیا کیا کہ بستر کو دوہرا کردیا کہ میں صبح تک سوتا رہا۔ مجھے دنیاوی راحت سے کیا تعلق! اور بستر کی نرمی کی وجہ سے تم نے مجھے غافل کردیا۔ (کنزالعمال۔ ج 6، ص 350) ایک دفعہ اپنا کرتا ایک شخص کو دھونے اور پیوند لگانے کے لیے دیا۔ اُس نے اس کے ساتھ ایک نرم کپڑے کا کرتا پیش کیا۔ حضرت عمرؓ نے اس کو واپس کردیا اور اپنا کرتا لے کر کہا: اس میں پسینہ خوب جذب ہوتا ہے۔ (کنزالعمال) ایک مرتبہ کپڑوں کے متعلق حضرت حفصہ ؓ نے گفتگو کی تو فرمایا کہ مسلمانوں کے مال میں اس سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتا۔ حضرت انسؓ بن مالک کا بیان ہے کہ میں نے زمانہ خلافت میں دیکھا کہ آپؓ کے کرتے کے مونڈے پر تہہ بہ تہہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ (موطا امام مالک) حضرت عمرؓ نے اسی وظیفہ پر اکتفا کیا جو صحابہ کرامؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے لیے مقرر کیا تھا۔ چنانچہ آپ اسی پر رہے اور آپ کو سخت حاجتوں کا سامنا ہوا تو مہاجرین کی ایک جماعت جمع ہوئی۔ ان اصحاب شوریٰ میں حضرت عثمان‘ علی‘ طلحہ‘ زبیر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ حضرت زبیرؓ نے کہا: اگر ہم لوگ حضرت عمرؓ سے کچھ زیادتی کے لیے کہیں جس کو وہ اپنے وظیفہ میں زیادہ کرلیں (تو کیسا ہے؟) حضرت علیؓ نے فرمایا: میں تو پہلے ہی سے اس بات کا سوچ رہا تھا۔ لہٰذا ہم کو (حضرت عمرؓ کے پاس لے چلو۔ اس پر حضرت عثمانؓ نے فرمایا: وہ عمرؓ ہیں! آئو ذرا ہم تحقیق کرلیں کہ حضرت عمرؓ کا عندیہ کیا ہے؟ ہم لوگ حضرت حفصہؓ کے پاس چلیں اور ان سے چھپ کر پوچھیں۔ چنانچہ یہ حضرات حضرت حفصہؓ کی خدمت میں آئے کہ آپ حضرت عمرؓ کو ایک جماعت کی طرف سے یہ خبر پہنچائیں اور ان سے کسی کا نام نہ لیں مگر یہ کہ وہ دریافت کریں (تو بتادیں) اور یہ لوگ حضرت حفصہؓ کے پاس سے (یہ کہہ کر) چلے گئے۔ چنانچہ حضرت حفصہؓ اس بارے میں حضرت عمرؓ سے ملیں، پس انھوں نے حضرت عمرؓ کے چہرے میں غصہ کے آثار دیکھے اور پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ حضرت حفصہؓ نے کہا: میرے لیے ان کے (نام) بتانے کی کوئی سبیل نہیں جب تک میں آپ کی رائے نہ جان لوں۔ فرمایا: اگر میں جان لیتا کہ وہ کون لوگ ہیں تو ان کے چہرے بگاڑ دیتا، تُو میرے اور ان کے درمیان ہے، تجھے میں خدا کی قسم دیتا ہوں۔ سب میں بہتر وہ کون سا کپڑا تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے گھر میں رکھ چھوڑا تھا؟ حضرت حفصہؓ نے فرمایا: دو کپڑے گیرو میں رنگے ہوئے جن کو آپؐ وفد سے ملاقات کے لیے پہنتے اور جنہیں پہن کر آپؐ جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: اور کون سا کھانا اعلیٰ درجہ کا آپؐ نے تیرے پاس پایا؟ کہا: وہی ہماری جَو کی روٹی جس پر ہم جب وہ گرم ہوتی اپنی کپی کا تلا نچوڑ دیتے اور اس کو ہم چکنا مالیدہ بنالیتے، ہم اس سے کھاتے اور اس سے آپؐ کو کھلاتے، اور اس کھانے کو بہت عمدہ سمجھتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: کون سا بستر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس بچھایا کرتے تھے جو زیادہ نرم ہوتا؟ حضرت حفصہؓ نے کہا: ہمارا ایک موٹا کمبل تھا‘ جس کو ہم گرمیوں میں چوہرا کرلیتے تھے اور اسے اپنے نیچے بچھا لیتے تھے، اور جب سردی ہوتی تھی‘ آدھا بچھا لیتے تھے اور آدھا اوڑھ لیتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے حفصہؓ ان لوگوں کو میری جانب سے یہ بات پہنچادینا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اندازہ مقرر کرگئے ہیں اور آپؐ نے زیادتی کے لیے اس کا محل مقرر کردیا ہے، اور امید (آخرت) ہی پر آپؐ نے کفایت فرمائی، اور بے شک میں نے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔ پس خدا کی قسم میں بھی مالِ زائد کو اس کے محل پر رکھوں گا‘ اور میں بھی اللہ کی امید پر کفایت کروں گا۔ میری اور میرے دونوں صاحب (حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ) کی مثال ان تین آدمیوں جیسی ہے جو ایک راستے پر چلے‘ پہلا چلا اور وہ توشہ لے گیا، پس منزل پر پہنچ گیا۔ اس کے پیچھے دوسرا اُس کے راستے پر چلا، یہ بھی اُس تک پہنچ گیا۔ پھر تیسرا ان دونوں کے پیچھے چلا، اگر ان کے طریقے کو پکڑے رہا اور ان کے زادِ راہ پر راضی رہا تو ان دونوں کے ساتھ مل جائے گا، اور انھی کے ساتھ رہے گا، اور اگر ان دونوں کے طریقے کے خلاف چلا تو ان دونوں کے ساتھ نہیں مل سکتا۔ (کما فی المنتخب الکنز ج 4، ص408) حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ میں بصرہ کی جامع مسجد کی ایک مجلس میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ کچھ اصحابِ رسول حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زہد کا تذکرہ کررہے ہیں اور ان چیزوں کا تذکرہ کررہے ہیں جن سے اللہ پاک نے ان دونوں کے سینے کو اسلام کے لیے کھولا، اور ان دونوں حضرات کے حسنِ سیرت کا بیان کررہے ہیں۔ چنانچہ میں بھی اس مجمع کے قریب بیٹھ گیا۔ اس مجمع میں احنفؓ بن قیس تمیمی بھی لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم لوگوں کو حضرت عمرؓ نے ایک سریہ (جنگ) میں عراق کی طرف روانہ فرمایا‘ اللہ پاک نے ہمارے ہاتھوں عراق اور فارس کے شہر فتح کرائے۔ ہم نے وہاں فارس اور خراسان کی چاندی پائی، اس کو ہم نے اپنے ساتھ رکھ لیا اور اس سے ہم نے اپنے لباس بنوائے، پس جب ہم حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؓ نے ہم سے اپنا چہرہ پھیرلیا اور بات نہ کی‘ یہ بات حضراتِ صحابہ کرامؓ پر نہایت گراں گزری، چنانچہ ہم آپؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہؓ کے پاس آئے۔ یہ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ ہم پر امیرالمومنین حضرت عمرؓ کی جانب سے جو سختی پیش آئی اس کی ہم نے ان سے شکایت کی‘ حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ امیرالمومنین نے تم پر وہ لباس دیکھا کہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استعمال کرتے ہوئے نہیں دیکھا، اور نہ آپؐ کے بعد والے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو۔ یہ سن کر ہم اپنے مکان واپس آئے اور جو لباس ہمارے اوپر تھا، ہم نے اسے اتارا، اور ہم حضرت عمرؓ کے پاس اسی لباس میں آئے کہ جس میں وہ ہمیں دیکھا کرتے تھے، تو حضرت عمرؓ نے کھڑے ہوکر ہم لوگوں میں سے ایک ایک آدمی کو سلام کیا اور ہم میں سے ایک ایک آدمی سے معانقہ کیا‘ جیسے کہ اس سے پہلے ہم کو دیکھا ہی نہ تھا‘ ہم نے آپؓ کے سامنے مالِ غنیمت پیش کیا تو آپؓ نے اس کو ہم لوگوں میں برابر تقسیم کردیا۔ ان کے سامنے مالِ غنیمت میں وہ ٹوکریاں بھی نکلیں جن میں خبیص (چھوارے اور گھی وغیرہ سے بنا ہوا حلوہ) کی سرخ و سفید قسمیں رکھی ہوئی تھیں۔ حضرت عمرؓ نے اس کو چکھا، اس کا مزا اچھا اور خوشبو اچھی پائی تو ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: خدا کی قسم اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تم میں سے بیٹا باپ سے اور بھائی بھائی سے اس کھانے پر ضرور لڑے گا۔ پھر آپؓ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ یہ ان لوگوں کی اولاد کی طرف پہنچایا جائے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مہاجرین اور انصار میں سے شہید ہوئے تھے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور واپس چلے گئے۔ آپؓ کے پیچھے صحابہ کرامؓ آپؓ کے نقش قدم پر چلے اور صحابہؓ نے کہا کہ اے مہاجرین و انصار کی جماعت اس آدمی کے زہد کو اور اس کے حلیہ کو نہیں دیکھتے ہو؟ اس نے ہم لوگوں کے لیے ہمارے نفسوں کو حقیر کردیا جب سے کہ اللہ پاک نے اس کے ہاتھوں پر کسریٰ اور قیصر کے شہر فتح کیے اور مشرق و مغرب کی دونوں طرفیں۔ عرب اور عجم کے وفود اس کے پاس آتے ہیں اور اس پر یہ جبہ دیکھتے ہیں جس پر بارہ پیوند لگے ہوئے ہیں۔ اے اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت! کاش کہ تم ان سے پوچھتے۔ اور تم لوگ بڑے ہو‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد اور غزوات میں رہے ہو، اور تم سبقت لے جانے والے مہاجرین اور انصار میں سے ہو کہ یہ اپنا جبہ کسی نرم کپڑے کا بنالیں جس میں ذرا ان کا منظر ہیبت ناک ہو اور صبح و شام ان کے پاس ایک لگن کھانے کی آئے جسے یہ کھائیں، اور جو مہاجرین و انصار میں سے حاضر ہوں وہ کھائیں‘ سب نے بالاتفاق سن کر یہی کہا کہ اس کام کے لیے تو سوائے حضرت علیؓ بن ابی طالب کے اور کوئی موزوں نہیں‘ اس لیے کہ وہ تمام لوگوں میں سے حضرت عمرؓ کے سامنے جرأت سے کام لے سکتے ہیں اور حضرت عمرؓ ان کے داماد بھی ہیں‘ یعنی حضرت علیؓ کی بیٹی بھی حضرت عمرؓ کے نکاح میں ہے، یا اس کام کے لیے جرأت ان کی بیٹی حفصہؓ کرسکتی ہیں، وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں اور حضرت عمرؓ ان کی بات مان بھی لیں گے۔ چنانچہ لوگوں نے حضرت علیؓ سے بات چیت کی۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ کام کرنے والا نہیں۔ تم لوگ ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مدد لو‘ وہ امہات المومنین ہیں، حضرت عمرؓ پر جرأت کرسکتی ہیں۔ حضرت احنفؓ بن قیس فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ سے کہا، کہ یہ ایک ہی جگہ جمع تھیں… تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا: میں امیرالمومنین سے اس بات کو پوچھ لوں گی۔ حضرت حفصہؓ نے کہا: میرا خیال ہے کہ وہ کبھی بھی راضی نہ ہوں گے اور ابھی تم پر یہ بات واضح ہوجائے گی۔ چنانچہ یہ دونوں امیرالمومنین کے پاس آئیں۔ آپؓ نے ان دونوں کو اپنے قریب بٹھایا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اے امیرالمومنین! کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ آپ سے بات کروں؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے ام المومنین! کہیے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور رضوان کی طرف اپنا راستہ اختیار کیا اور دنیا کا ارادہ نہیں کیا اور نہ دنیا نے آپؐ کا ارادہ کیا‘ اسی طرح حضرت ابوبکرؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ کرکے چل دیے اور جھوٹوں کو موت کے گھاٹ اتار گئے اور باطل لوگوں کی دلیلوں کو ناکارہ کرگئے‘ اپنی رعایا میں انصاف پھیلا گئے، سب میں تقسیم برابر رکھی اور اللہ پاک کی رضا مندیاں ہمیشہ ان کے سامنے رہیں۔ اللہ پاک نے ان کو اپنی رحمت اور اپنی رضوان کی طرف اٹھالیا اور انہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونچے بلند مقام پر ملا دیا۔ نہ انھوں نے دنیا کا ارادہ کیا اور نہ دنیا نے ان کا۔ اور اللہ پاک نے آپؓ کے ہاتھوں کسریٰ اور قیصر کے خزانے اور ان کے شہر فتح کرائے اور آپؓ کی طرف ان کے مال بھیجے اور آپؓ کی اطاعت مشرق اور مغرب نے کی‘ ہم اللہ سے اور زیادتی کی اور اسلام میں تائید کی امید رکھتے ہیں۔ عجم کے ایلچی اور عرب کے وفود آپؓ کے پاس آتے ہیں اور آپؓ کے پاس ٹھیرتے ہیں، اور آپؓ پر یہ جبہ ہے جس میں آپؓ نے بارہ پیوند لگا رکھے ہیں۔ پس اگر آپؓ اس جبہ کو نرم کپڑے سے بدل دیتے جس میں آپؓ بھاری بھرکم اور مہیب دکھائی دیتے، اور صبح ایک لگن کھانے کی آپؓ کے سامنے آتی اور شام کو ایک لگن کھانے کی آتی‘ آپؓ کھاتے اور مہاجرین وانصار میں سے جو اُس وقت ہوتے وہ کھاتے (تو نہایت مناسب تھا)۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ بہت روئے‘ اس کے بعد فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گیہوں کی روٹی سے دس دن یا پانچ دن یا تین دن پیٹ بھرا ہے؟ یا شام اور صبح کا کھانا ایک دن میسر آیا ہے؟ یہاں تک کہ آپؐ اللہ تعالیٰ سے مل گئے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: نہیں۔ پھر حضرت حفصہؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم جانتی ہو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھانا ایسی میز پر پیش کیا گیا ہو جو زمین سے ایک بالشت اونچی ہو‘ آپؐ تو کھانے کے لیے حکم دیتے تھے، وہ زمین پر رکھ دیا جاتا تھا اور میز کے لیے حکم دیتے تھے وہ اٹھا دی جاتی تھی۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ دونوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم یہی بات ہے۔ اس کے بعد آپؓ نے دونوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: تم دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہو اور امہات المومنین ہو، اور تم دونوں کا تمام مومنین پر حق ہے، اور میرے اوپر تو خاص طور سے، اور تم دونوں مجھے دنیا میں رغبت دلانے آئی ہو؟ میں جانتا ہوں بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُون کا ایسا موٹا جبہ پہنا ہے‘ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کھال کو اس کے کھردرے پن سے کھجایا ہے‘ کیا تم دونوں اس بات کو جانتی ہو؟ ان دونوں نے کہا: خدا کی قسم ہاں۔ اس کے بعد آپؓ نے فرمایا: کیا تم جانتی ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عبا پر جو ایک تہہ والی ہوتی، سو رہا کرتے تھے؟ اور اے عائشہؓ تمہارے گھر میں تو ٹاٹ تھا جو دن میں بیٹھنے کا فرش ہوتا اور رات میں سونے کے لیے بچھونا۔ ہم آپؐ کے پاس جاتے‘ چٹائی کا نشان آپؐ کے پہلو پر دیکھتے۔ اور کیا اے حفصہؓ تُو نے مجھ سے یہ بیان نہیں کیا تھا کہ تُو نے ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بستر نرم کردیا تھا‘ آپؐ نے اس کی نرمی پائی اور سوگئے اور آپؐ کی آنکھ بجز حضرت بلالؓ کی اذان کے نہیں کھلی تو آپؐ نے تجھ سے اے حفصہ کہا تھا کہ اے حفصہ تُو نے کیا کیا؟ تُو نے اس رات بستر دوہرا کردیا؟ یہاں تک کہ مجھے صبح تک نیند گھیرے رہی۔ مجھے دنیا سے کیا غرض؟ اور مجھے کیا ہوگیا کہ تُو نے اے حفصہ! مجھے نرم بستر کی وجہ سے نماز سے غافل کردیا؟ (حضرت عمرؓ نے کہا) اے حفصہ کیا تُو نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے گئے تھے؟ آپؐ نے بھوکا رہ کر شام کی، اور سجدہ میں سورہے‘ اور ہمیشہ آپؐ رکوع اور سجدہ کرتے اور روتے اور رات اور دن کے اوقات میں گڑگڑاتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور رضوان کی طرف اٹھالیا۔ عمر نہ اچھا کھانا کھائے گا اور نہ نرم کپڑا پہنے گا۔ اس کے لیے اپنے دونوں ساتھیوں کا اسوہ (عمل) کافی ہے، اور نہ سوائے نمک اور روغنِ زیتون کے کسی دو سالن کو جمع کرے گا، اور میں گوشت مہینہ میں صرف ایک مرتبہ کھائوں گا، خواہ قوم کو یہ باتیں کتنی ہی ناپسندیدہ ہوں۔ یہ دونوں آپؓ کے پاس سے نکلیں اور اس کی اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے ہمیشہ اسی طرح بسر اوقات کی‘ یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل سے جا ملے۔ کذافی منتخب کنزالعمال
مکمل تحریر اور تبصرے>>

حضور صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان غیروں کی نظر میں


 نبی کریم صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
کے بارے میں کفار واغیار کے تعریفی خطبوں کو جمع کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اسکے لئے اسکو کافی محنت کرنی پڑی ہوگی۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کوشش کے سبب جواد صاحب کو شفاعت اور جام کوثر نصیب کرے ۔آمین
میں نے مناسب جانا کہ اسکے پوسٹ کو کاپی کرکے اپنے بلاگ پر شئیر کرلوں تاکہ زیادہ سے زیادہ دوست حضرات اسکو پڑھ سکیں۔ بشکریہ جواد صاحب۔
مغربی اور غیر مسلم مشاہیرومستشرقین کےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو اقوال و خیالات نقل کے گئے ہیں.آپ بھی اسکوملاحظہ فرمائیں:
(1)
مجھے امید ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب میں تمام ممالک کے پڑھے لکھے اور دانشمند لوگوں کو جمع سکوں گا اور قرآن کے بتائے ہوے اصولوں کے مطابق ایک ہمہ جہت عالمی نظام حکومت قائم کرلوں گا کہ جو سچائی پر مبنی ہوگا اور انسان کو حقیقی مسرت دے سکے گا.
(نپولین بونا پارٹ – “بوناپارٹ ایٹ اسلام “ ، پیرس -١٩١٤ )
(2)
میرا اس پر یقین پہلے سے بڑھ چکا ہے کہ یہ تلوار نہیں تھی جس کے ذريعے اسلام نے اپنا مقام حاصل کیا بلکہ ایک غیر لچکدار سادگی ، پیغمبر اسلام کی نفس کشی ، اپنے وعدوں کا احترام، اپنے دوستوں اور ماننے والوں کے لیے انتہائی درجہ کی وابستگی ، انکی بہادری اور بے خوفی اور اپنے خدا اور اپنے مشن پر غیر متزلزل اور مطلق ایمان نے انھیں کامیابیاں دلائیں اور اسی سے انہوں نے ہر مشکل پر قابو پایا .
( گاندھی : ینگ انڈیا -١٩٢٤ )
(3)
اگر مقصد کی عظمت ، وسائل کی قلت اور حیرت انگیز نتائج کسی انسان کی غیر معموليت کا معیار ہوں تو کون ہے جو جدید انسانی تاریخ میں محمد کا مقابلہ کر سکے؟. زیادہ مشہور لوگوں نے ہتھیار بنائے ، قوانین بنائے اور سلطنتیں تخلیق کیں اور کچھ پایا تو یہ کہ انکی مادی طاقت انکی آنکھوں کے سامنے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی. اس شخص نے افواج ، قوانین ، سلطنتوں ، عوام اور خواص کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ دنیا میں رہنے والی ایک تہائی آبادی کے کروڑوں انسان ان سے متاثر ہوے بغیر نہ رہ سکے. اور اس بھی زیادہ اس شخص نے مذہبی رسومات کو ، نام نہاد خداؤں کو ، ادیان کو ، خیالات و نظریات کو ، ارواح اور عقائد کو متاثر کیا . جسکا مقصد کبھی بھی بادشاہت نہیں رہا جو کہ صرف ایک عظیم الشان مقصد سے وابستہ رہا کامیابی اور تحمل کے ساتھہ . اسکی بے انتہا عبادات اور اپنے رب سے مکاشفات ، اسکی موت اور بعد از مرگ اسکی کامیابی اسکی وہ خوبیاں ہیں جو کسی مکر و فریب کی بجائے ایمان کی اس بلند ترین حالت کو ثابت کرتی ہے جو قوت دیتی ہے بنیادی عقیدے کو بحال کرنے کی. یہ بنیادی عقیدہ دو اجزا پر مشتمل ہے ایک جز تمام خداؤں کا انکار کرتا ہے تو دوسرا جز بتاتا ہے خدا کیا ہے. ایک جز تلوار کے زور پر جھوٹے خداؤں کو دور کرتا ہے تو دوسرا جز تبلیغ کے زور پر اصل خدا سے تعارف کراتا ہے.
محمد کیا نہیں تھے ؟ ایک فلاسفر ، خطیب ، رسول ، قانون ساز ، جنگجو ، نظریات کو فتح کرنے والے ، ایک عقلی عقیدہ کو بحال کرنے والے ، ٢٠ سرحدوں والی سلطنتوں اور ایک روحانی سلطنت کے خالق…انسانی عظمت کے کسی بھی معیار کو لے لیجئے ، ہم صرف ایک سوال کرتے ہیں کہ کیا کوئی محمد سے عظیم شخص آیا ہے ؟
(لامارٹیں – “تاریخ ترکی” ١٨٥٤ – جلد دوئم صفحہ ٢٧٦-٢٧٧ )
(4)
میرا یقین ہے کہ اگر محمد جیسے شخص کو جدید دنیا کی مطلق العنان حکومت سونپ دی جائے تو وہ اس دنیا کے مسائل اس طرح سے حل کرے گا کہ دنیا حقیقی مسرتوں اور راحتوں سے بھر جائے گی. میں نے انھیں پڑھا ہے وہ کسی بھی طرح کے مکر و فریب سے کوسوں دور ہیں انہیں بجا طور پر انسانیت کا نجات دہندہ کہا جاسکتا ہے. میں نے پیشینگوئی کی تھی کہ محمد کا عقیدہ یورپ کے لئے آنے والے کل میں اتنا ہی قابل قبول ہوگا کہ جتنا آج قابل قبول بننے لگا ہے.
( جارج برنارڈ شا – “حقیقی اسلام ” ١٩٣٦ – جلد ٨ )
(5)
یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک آدمی خالی ہاتھہ جنگ و جدل میں مشغول قبائل اور بدوؤں کو اس طرح سے آپس میں جوڑ لے کہ وہ ٢٠ سال کے مختصر عرصہ میں ایک انتہائی طاقتور اور مہذب قوم بن جائیں ؟
جھوٹ اور تہمتیں جو مغربی اقوام نے اس شخص پربڑے جوش و خروش سے لگائی ہیں خود ہمارے لئے شرمندگی کا باعٽ ہیں.یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک آدمی خالی ہاتھہ جنگ و جدل میں مشغول قبائل اور بدوؤں کو اس طرح سے آپس میں جوڑ لے کہ وہ دو دہائیوں سے بھی کم کے مختصر عرصہ میں ایک انتہائی طاقتور اور مہذب قوم بن جائیں ؟ ایک تنہا مگر عظیم شخص ایک اولو العزم انسان جسے اس دنیا کو روشن کرنا تھا کیونکہ اسکا حکم اسے اسکے خدا نے دیا تھا
( تھامس کارلائل – ہیروز اینڈ ہیروز ورشپ )
(6)
ہمیں اسکے دین کے فروغ سے زیادہ اسکے دین کی استقامت پر حیرت ہونی چاہیے. وہی خالص اور مکمل احساس جسے اس نے مکّہ اور مدینہ میں کندہ کیا وہی احساس ہمیں ١٢ صدیاں گزرنے کے بعد بھی قرآن کے ماننے والے انڈین ، افریکی اور ترکوں میں نظر آتا ہے. مسلمانوں نے بڑی کامیابی سے ان ترغیبات کا مقابلہ کیا جو انسانوں کی کسی بھی عقیدے سے وابستگی کو کم کر کے انکو انکے نفس کی خواھش پر چھوڑ دیتی ہیں. ” میں اللہ واحد و لاشریک پر ایمان لاتا ہوں اور اس بات پر کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ” یہ ایک سادہ اور نہ قابل ترمیم دینی اعلان ہے.یہاں خدا کے منطقی تصور کو بتوں کے ذريعے گھٹایا نہیں اور نہ ہی رسول کی عظمت کو انسانی حدوں سے بڑھایا گیا.اسکی زندگی نے ایسی مثال قائم کی جس نے اسکے ماننے والوں کو مذہب اور معقولیت کی حدوں میں رکھا
(ایڈورڈ گبن اور سائمن اوکلے – ” تاریخ سلطنت شام و عرب “ – لندن ١٨٧٠ – صفحہ ٥٤ )
(7)
وہ خود میں ایک قیصر اور پوپ تھے پاپائیت سے منسوب الزامات اور دعووں سے مبرّا اور قیصرآنہ فوج اور شان و شوکت، محافظین ، محلات اور آمدنی کے بغیر. اگر کبھی بھی کسی بھی شخص کے بارے میں یہ کہا جائے کہ اس نے الوہی حکومت کی ہے تو وہ شخص محمد کے علاوہ کوئی اور ہو نہیں سکتا بغیر الوہیت کے، الوہیت کی تمام تر طاقت لئے ھوۓ
( بوس ورتھ اسمتھ – محمد اور محمدی عقیدہ – ١٨٧٤ لندن – صفحہ :٩٢ )
(8)
یہ نا ممکن ہے کسی بھی ایسے شخص کے لئے جس نے عرب کے عظیم پیغمبر کی زندگی اور اسکے کردار کے بارے میں پڑھا ہو . جو یہ جانتا ہو کہ اس پیغمبر نے کیا تعلیم دی اور کیسے زندگی گزاری وہ اس اپنے دل میں اس عظیم پیغمبر کے لئے انتہائی احترام کے علاوہ کچھ اور محسوس کرے. اگرچہ میں انکے بارے میں آپ سے کچھ بھی کہوں، بہت سارے لوگ ایسے بھی ہونگے جن کے نزدیک میری باتیں نئی نہیں ہیں لیکن ابھی تک خود میں جب بھی اس عظیم پیغمبر کے بارے میں پڑھتی ہوں تو اس عظیم استاد کے لئے تعریف و توصیف کی ایک نئی لہر میرے اندر اٹھتی ہے اور احترام کا ایک نیا جذبہ میرے اندر کروٹ لیتا ہے.
( اینی بیسنٹ – ” محمد کی زندگی اور انکی تعلیمات ” – مدراس ١٩٣٢ – صفحہ ٤ )
(9)
اپنے عقیدے کی خاطر کسی بھی قسم کے ظلم اور زیادتی کو برداشت کرنے کی آمادگی ، اسکے ماننے والوں کا بلند اخلاق و کردار ، اسکے ماننے والوں کا رشد و ہدایت کے لئے اسی کی طرف دیکھنا اور اسکی کامیابیوں کی شان و عظمت، یہ سب اسکی ایمانداری اور دیانت داری کی طرف دلالت کرتی ہیں اسی لئے یہ خیال کرنا کہ وہ (معاذ الله ) جھوٹے تھے ، مشکلات کو حل کرنے کی بجائے بڑھا دیتا ہے. مزید برآں مغرب میں کسی بھی عظیم شخص کی ایسی بے توقیری اور قدر ناشناسی نہیں دیکھی گئی ہے جیسا کہ محمد کے لئے کی گئی ہے.
( منٹگمری واٹ – مکّہ والے محمد – آکسفورڈ ١٩٥٣ – صفحہ ٥٢ )
(10)
انسان کامل ، محمد جو ٥٧٠ ء میں ایک ایسے قبیلے میں پیدا ھوۓ جو بتوں کو پوجتا تھا. پیدائشی یتیم تھے. وہ خاص طور پر غریبوں اور ضرورت مندوں، بیواؤں اور یتیموں ، غلاموں اور پسے ہوؤں کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے. بیس سال کی عمر میں وہ ایک کامیاب تاجر بن گئے تھے اور ایک دولتمند بیوہ کے لئے تجارتی منتظم بن گئے تھے. جب پچیس سال کے ھوۓ تو انکی آجر انکی خوبیوں اور صلاحیتوں کو دیکھتے ھوۓ انھیں رشتہ بھیجا.اور باوجود اسکے کہ وہ ان سے ١٥ سال بڑی تھیں ، نا صرف شادی کی بلکہ جب تک زندہ رہیں اپنے آپ کو اپنی بیوی کے لئے وقف رکھا. ”
” ہر بڑے پیغمبر کی طرح وہ بھی خدا کے الفاظ و پیغام کو محض اپنی بشری کمزوریوں کی وجہ سے دہرانے میں متردد تھے. لیکن فرشتہ نے انھیں حکم دیا کہ “پڑھ ” . امی ہونے کے باوجود انہوں نے وہ الفاظ دوہرائے جنہوں نے زمین کے ایک بڑے حصّے میں انقلاب برپا کر دیا ” خدا ایک ہے ” .
” محمد سب سے زیادہ عملیت پسند تھے جب انکے پیارے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہوا ، تو اسی دن سورج گرہن ہوا جسکو خدا کی طرف سے تعزیت قرار دیا جانے لگا. جس کے رد میں محمد کو یہ کہنا پڑا کہ گرہن لگنا قدرت کا ایک نظام کے تحت ہے. کسی کی زندگی اور موت کو اس سے منسوب کرنا حماقت ہے.”
محمد کی وفات پر جب لوگوں کو یقین نہیں آرہا تھا تو اسکے جانشین نے اس ہسٹیریا کو ایک تاریخی ، انتہائی اعلیٰ و بہترین خطاب سے رفع کیا کہ ” اگر تم میں سے کوئی محمد کی پرستش کرتا تھا تو محمد وفات پا چکے ہیں لیکن اگر تم خدا کی پرستش کرتے ہو تو وہ ہمیشہ رہنے والا ہے.
( جیمز اے مچنر – ” اسلام : ایک غلط سمجھا گیا دین ” – ریڈرز ڈائجسٹ -مئی ١٩٥٥- صفحہ ٦٨-٧٠ )
(11)
ممکن ہے کہ انتہائی متاثر کن شخصیات میں محمد کا شمار سب سے پہلے کرنے پر کچھ لوگ حیران ہوں اور کچھ اعتراض کریں. لیکن یہ وہ واحد تاریخی ہستی ہیں جو کہ مذہبی اور دنیاوی دونوں محاذوں پر یکساں طور پر کامیاب رہے”
” ہم جانتے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب فتوحات کے انسانی تاریخ پر اثرات ہنوز موجود ہیں. یہ دینی اور دنیاوی اثرات کا ایسا بینظیر اشتراک ہے جو میرے خیال میں محمد کو انسانی تاریخ میں سب سے متاثر کن شخصیت قرار دینے کا جواز دیتا ہے
( مایکل ایچ ہارٹ – ١٠٠- عظیم آدمی )
(12)
یہ وہ پہلا مذہب ہے جس نے جمہوریت کی تبلیغ اور اسکی ترویج کی . جب مسجد میں پانچ وقت اذان دی جاتی ہے اور نمازی ، نماز کے لئے اکھٹے ہو جاتے ہیں تو اسلامی جمہوریت مجسم ہوجاتی ہے اور کسان اور بادشاہ گھٹنے سے گھٹنا ملائے خدا کی تکبیر بیان کرتے ہیں
( سروجنی نائیڈو – اسلام کے آئیڈیلز – مدراس ١٩١٨ )
(13)
وہ انکا نہایت ایماندار حفاظت کرنے والا تھا جن کی اس نے حفاظت کی ، گفتار میں انتہائی شیریں اور متحمل . جنہوں نے بھی اسے وہ احترام کے جذبے سے مغلوب ھوۓ . جو اسکے قریب آئے اس پر فدا ھوۓ. جنہوں نے بھی اسکے بارے میں کچھ بتانا چاہا ، یہی کہا کہ ” میں نے ان جیسا نا پہلے نا بعد میں کبھی دیکھا ہے ” انکی خاموشی میں بھی انکی عظمت تھی لیکن جب بھی انہوں نے بات کی زور دیکر اور بہت سوچ بچار کر کی اور کوئی بھی انکی کہی ہوئی بات کو بھول نا سکا
( اسٹینلے لینی پول – ٹیبل ٹاک آف دی پرافٹ )
(14)
ہمیں اسلام اور پیغمبر اسلام کو انکی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا چاہیے.اسلام کے بارے میں ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ بہت زیادہ غلط سمجھا گیا دین ہےآپ ہندو مت کو سمجھنے کے لئے ہندو انتہا پسندوں کی طرف نہیں دیکھتے، سکھ مذھب کو سمجھنے کے لئے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور اسکے ساتھیوں کی طرف نہیں دیکھتے اسی طرح آپکو اسلام سمجھنے کے لئے اسکے نام نہاد پیروکاروں کی بجائے پسغمبر اسلام کی تعلیمات کو دیکھنا چاہیے. لوگوں کو ایک بات سمجھنا چاہیے کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں پھیلا. انڈونیشیا اور ملائشیا میں کبھی اسلامی فوج داخل نہیں ہوئی تھی. لیکن اسکے باوجود وہاں پر ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا. محمد صلی اللہ علیھ وسلم نے ہمیں ایک قادر مطلق خدا کی عبادت کرنا سکھائی.دوسرے مذھب کے برعکس جہاں مختلف کاموں کے لئے مختلف خدا ہیں.
( خشونت سنگھ – مالا پرّم ٹاون ہال – فروری ٢٠١٠ )
(15)
غزوہ احد میں ہر شہید مسلمان نے اپنے پیچھے بیویاں اور بچیاں چھوڑیں جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا .اس غزوہ کے بعد قرانی آیت نازل ہوئیں جن میں چار شادیوں کی اجازت دی گئی تھی. اسلام میں کثیر الازدواجی کی اجازت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے عورت کے مصائب اور تکلیف کا ایک بڑا سبب بتایا جاتا ہے. لیکن جب یہ اجازت دی گئی اس وقت یہ ایک نہایت عمدہ معاشرتی قدم تھا.اسلام سے پہلے مردوں اور عورتوں کو ایک سے زیادہ بیویاں اور شوھر رکھنے کی اجازت تھی. شادی کے بعد عورتیں اپنے میکے میں ہی رہتیں تھیں جہاں انکے شوہر ان سے ملنے آتے.یہ معاشرتی سیٹ اپ ایک قانونی قحبہ گری سے زیادہ کچھ نہ تھا. شوہروں کی زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے بچوں کی ولدیت کا تعین مشکل تھا اور بچے اپنی ماں سے پہچانے جاتے تھے اسی وجہ سے مرد نان و نفقہ اور اولاد کی پرورش سے آزاد رہے.اسلام سے پہلے عورت حق وراثت اور حق ملکیت سے محروم تھی.جو بھی آمدنی اسکی طرف آتی تھی وہ اسکے گھر والوں خاص طور گھر کے مردوں کے پاس چلی جاتی تھی. عورت کے لئے کاروبار چلانا اور جائیداد کا انتظام و انصرام سنبھالنا ایک مضحکہ خیز خیال محسوس ہوتا تھا. عورت کو کوئی انفرادی حقوق حاصل نہیں تھے اور اسکی حثیت مرد کی ملکیت سے زیادہ نہیں تھی.
اسلامی کثیر الازدواجی در حقیقت ایک سماجی قانون سازی ہے. جس میں عورت کو مرد کی خواھش پورا کرنے کا آلہ نہیں بنایا بلکہ کمزور اور بے سہارا خواتین کے لئے گھروں کا اور نگہبانوں کا انتظام کیا ،تمام تر حقوق ،عزت اور احترام کے ساتھ اور سب سے بڑھ کر وراثت میں وہ حقوق دے جو مغربی خواتین کو ١٩ صدی عیسوی تک میسر ہی نہیں تھے.
( کیرن آرمسٹرانگ – ” محمد : ہمارے عہد کے نبی” )
مکمل تحریر اور تبصرے>>

شانِ رحمۃ اللعالمین

شانِ رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم


جہاں تک رحمت و شفقت کا سوال ہے، ایک شفقت تو وہ ہے جو والدین کو اولاد سے، استاد کو شاگرد سے، بڑوں کو چھوٹوں کے ساتھ ہوتی ہے لیکن یہ شفقت مشروط ہوتی ہے،اطاعت اور وفاداری کے ساتھ ۔اگر اولاد باغی ہو جائے تو والدین کی شفقت باقی نہیں رہتی، اگرشاگرد نافرمان ہو جائے تو استاد کی شفقت ختم ہو جاتی ہے ۔اگر چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی بات نہ مانے تو بڑا بھائی اسے محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا مگر حضور صلعم کی رحمت و شفقت عام ہے، دوستوں کے لئے بھی اور دشمنوں کے لئے بھی، اپنوں کے لئے بھی اور پرائے لوگوں کے لئے بھی، ماننے والوں کے لئے بھی اور انکار کرنے والوں کے لئے بھی، راستہ میں گندڈالنے والوں کے لئے بھی اور راہوں میں کانٹے بچھانے والوں کے لئے بھی، جان قربان کرنے والوں کے لئے بھی اور جانی دشمنوں کے لئے بھی۔حضور صلعم کی پوری پاک زندگی بے مثال محبت ورحمت ،غیر مشروط مودت وشفقت کا مظہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترسٹھ سالہ حیاتِ مبارکہ میں انتقام نام کی کوئی چیز نہیں ملتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو رحمتہ للعالمینؐ بنا کر بھیجا  
اندھیرا چھٹ گیا کفر و ضلالت کی کمر توڑی
سراپا نور بن کر جب حبیب کبریا ؐآئے
انسان میں ہر دور میںدشمن میں بدلہ لینے کا جذبہ، انتقام لینے کی مکروہ خواہش ،دشمن کو نیچا دکھانے اور اسے برباد کرنے کی ناپاک ذہنیت اور حریف کو ذلیل و رسوا کرنے کی تمنا ہر دور اور ہر زمانے میں موجود رہی ہے، چھوٹا ہویا بڑا، امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر،مفلس ہو یا مالدار سبھی اس مصیبت میں مبتلا رہے ہیں۔دنیا والوں نے ہر چیز کو ممکن العمل سمجھا کہ دشمن کو معاف کر دینا، حریف کے ساتھ عفو و درگزر کا سلوک کرنا اور مخالف کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ قطعاً محال سمجھا ہے۔
رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے انتقامی  کارروائیاں اپنے شباب پر تھیں، آتش ِانتقام کی ہلاکت آفرینیوں سے نہ اپنے محفوظ تھے نہ پرائے، نہ چھوٹے نہ بڑے بوڑھے نہ بچے، نہ مرد نہ عورتیں،وہاں نہ انسانی جان کی کوئی قدروقیمت تھی، نہ انسانی خون کا احترام تھا، انتقام میں دشمن کی جان، اس کی عزت، اس کی آبرو اور اس کی ناموس بہت ہی بے حقیقت چیز اور دلچسپی اور دل جمعی کے لئے خوبصورت کھلونے تھے۔
اس زمانے کو دورِجاہلیت کہہ کر چھوڑ دیجئے، سیرتِ طیبہ صلعم کو دیکھئے جس کے دم سے ہر چیز ترقی کے آسمان پر پہنچی ،روحانی کمالات، اخلاقی برتری،سماجی انصاف ،معاشی مساوات اور تمام مفیدعلوم و فنون حدکمال تک آگئے ۔آج کل تہذیب و شائستگی، مساوات اور جمہوریت کے نعروں نے آسمان سر پر اُٹھا رکھا ہے، تمدن پر گھمنڈ ہے، غرض انسانی زندگی ہر شعبہ میں عروج کے جلوے نظر آتے ہیں، مگر کیا آتش انتقام میں کوئی کمی آئی؟عفو و درگزر میں کوئی خوبی اور بھلائی نظر آئی، رحمت و شفقت کے محاسن کا کچھ احساس ہوا؟ حریف سے انتقام لینے کی خواہش کو ٹھکرا کر اسے پیار و محبت کی ٓنکھوں میں جگہ دینے کا جذبہ پیدا ہوا؟یہ ساری صفات اور بابرکت عظمتیں انسانی تاریخ میں صرف اور صرف رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص ہیں ،مخصوص تھیں اور آگے بھی رہیں گی۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

ننکانہ صاحب

ضلع ننکانہ صاحب

ننکانہ صاحب پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے مرکزی شہر ننکانہ صاحب ضلع کا ضلعی ہیڈ کوآرٹر بھی ہے۔ ضلع ننکانہ صاحب میں کل چار تحصیلیں شامل ہیں جو ننکانہ صاحب، صفدرآباد، سانگلہ ہل اور شاہ کوٹ ہیں۔ 1998ء کے میں کی آبادی کا تخمینہ تھا۔ ضلع ننکانہ صاحب میں عمومی طور پر پنجابی، اردو وغیرہ بولی جاتی ہیں۔ اس کا رقبہ مربع کلومیٹر ہے۔ سطح سمندر سے اوسط بلندی 187 میٹر (613.52 فٹ) ہے۔

ننکانہ صاحب (انگریزی: Nankana Sahib) پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک شہر ہے جو ننکانہ صاحب ضلع کا ضلعی ہیڈ کوآرٹر بھی ہے۔ ضلع ننکانہ صاحب میں کل چار تحصیلیں شامل ہیں جو ننکانہ صاحب، صفدرآباد، سانگلہ ہلز اور شاہ کوٹ ہیں۔
شہر راۓپور (Raipur) اور راۓ بھوئی دی تلونڈی (Rai-Bhoi-di-Talwandi) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ شہر کی آبادی لگ بھگ ساٹھ ہزار افراد پر مشتمل ہے اور شہر کا فاصلہ صوبائی دارالحکومت لاہور سے 75 کلومیٹر مغرب میں ہے۔ شہر کو سکھ مذہب کا سب سے مقدس مقام قرار دیا جاتا ہے، اور سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو کی جاۓ پیدائش ہے۔


مکمل تحریر اور تبصرے>>

Thursday, 24 October 2013

دعا

http://pakiez.blogspot.com
اے اللہ   ہمارے گناہ معاف فرما دے۔
اے اللہ   ہماری خطاؤں کو درگذر فرما۔
اے اللہ   ہمیں نیکیوں کی توفیق عطا فرما، ہمارے چھپے اور کھلے گناہ، اگلے پچھلے گناہ معاف فرما، بے شک تیری معافی بہت بڑی ہے۔
اے اللہ   اپنی رحمت کے دامن میں چھپا لے۔
اے اللہ   ہمیں رات اور دن کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ   ہمیں جنوں اور انسانوں کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ   زندگی اور موت کے فتنوں سے بچا۔
اے اللہ   ہماری آہ زاری سن لے۔
اے اللہ   ہماری جسمانی اور روحانی بیماریوں کو صحت عطا فرما۔
اے اللہ   ہمیں جسمانی طاقت اور قوت عطا فرما۔
اے اللہ   ہم کو مصیبت سے نجات عطا فرما۔
اے اللہ   ہمیں حضرت آدم علیہ السلام جیسی توبہ نصیب فرما۔
اے اللہ   حضرت یعقوب علیہ السلام جیسی گریہ و زاری نصیب فرما۔
اے اللہ   ہمیں ابراہیم علیہ السلام جیسی دوستی نصیب فرما۔
اے اللہ   ہمیں ایوب علیہ السلام جیسا صبر نصیب فرما۔
اے اللہ   ہمیں داؤد علیہ السلام جیسا سجدہِ شکر نصیب فرما۔
اے اللہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عمل نصیب فرما۔
اے اللہ   حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا صدقہ نصیب فرما۔
اے اللہ   عمر رضی اللہ عنہ جیسا جذبہ نصیب فرما۔
اے اللہ   حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جیسا غنا عطا فرما اور شرم و حیا نصیب فرما۔
اے اللہ   حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی شجاعت و بہادری نصیب فرما۔
اے اللہ   آئمہ دین جیسی خدمتِ اسلام نصیب فرما
اے اللہ   ہمیں خلفائے راشدین جیسی بھلائیاں نصیب کر، ہمیں پیغمبری زندگی اور پیغمبری موت تحفہ بنا کر بھیج۔
اے اللہ   ہمیں موت تحفہ بنا کر بھیج، ہماری موت کو رحمت بنانا زحمت نہ بنانا۔
اے اللہ   ہماری قبروں کو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنانا۔
اے اللہ   ہمیں ایمان اور علم کی دولت سے مالامال کر دے۔
اے اللہ   تمام بے نمازیوں کو نمازی بنا دے۔
اے اللہ   بے روزگار کو رزقِ حلال عطا فرما۔
اے اللہ   گمراہوں کو راہ پر لے آ۔
اے اللہ   مفلس کو غنی کر دے۔
اے اللہ   مسلمانوں کو حلال روزی نصیب فرما۔
اے اللہ   بے اولادوں کو نیک اور صالح اولاد نصیب فرما۔
اے اللہ   جو اولاد سے گھبرا گئے ہیں انہیں معاف فرما دے۔
اے اللہ   بدکردار کے کردار کو درست فرما دے۔
اے اللہ   بد اخلاق کو مکرم الاخلاق فرما دے۔
اے اللہ   سلامتی والا دل، ذکر والی زبان اور رونے والی آنکھیں نصیب فرما دے۔
اے اللہ   ہمیں دین و دنیا کی عزت نصیب فرما۔
اے اللہ   ماں باپ کے نافرمانوں کو ان کا فرمابردار فرما دے۔
اے اللہ   بے چینوں کو چین عطا فرما، اجڑے ہوئے گھروں کو آباد کر دے اور جن گھروں میں نااتقافی ہے انکو اتفاق کی دولت سے مالامال کر دے۔
اے اللہ   ہمارے بچوں کو پاک دامنی عطا فرما اور انہیں زندگی کا نیک ساتھی نصیب فرما۔
اے اللہ   پاکستان کی حفاظت فرما اور اسے دشمنوں اور اپنوں کی چیرہ دستیوں سے محفوط رکھ۔
اے اللہ   ہمارے حکمرانوں کو حقائق جاننے، سمجھنے اور اس کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ   عالم اسلام میں اتحاد و اتقاق عطا فرما۔
اے اللہ   عالم اسلام کے حکمرانوں کے ایک دوسرے پر انحصار کرنے کی قوتِ فیصلہ عطا فرما۔
اے اللہ   ہماری قبروں کو جہنم کا گڑھا نہ بنا۔
اے اللہ   منکرِ نکیر کر سوالات کے وقت ہمیں ثابت قدم رکھنا۔
اے اللہ   ہماری زندگی اور موت کے بعد قرآن کو ہمارا مونس و غمگسار بنا دے۔
اے اللہ   ہمارے اعمال نامے ہمارے داہنے ہاتھ میں دینا۔
اے اللہ   ترازو کا پلڑا نیکیوں سے وزنی کرنا۔
اے اللہ   ہمارے چہروں کو قیامت کے دن چمکتا رکھنا۔
اے اللہ   پُل صراط ہمارے آسان فرما۔
اے اللہ   ہم پر اپنی رحمتوں اور کرموں کی بارش کر دے۔
اے اللہ   ہمیں جہنم سے بچا کر جنت الفردوس نصیب فرما۔
اے اللہ   ساقیِ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے حوض کوثر سے پانی پلانا۔
اے اللہ   تو سراپا عطا ہی عطا ہے مگر ہمیں مانگنے کا سلیقہ نہیں۔
اے اللہ   ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرما۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

اولیا اللہ

حضرت سید سلطان احمد سخی سرور

ڈیرہ غازی خان کو اگرچہ ڈویژن کا درجہ حاصل ہےلیکن بلحاظ ترقی بےحد پسماندہ ہے۔
یہاں کی زبان سرائیکی ہے جس میں بےحد مٹھاس اور شیرینی ہے۔ لوگ سادہ‘ ملنسار‘ مودّب اور محبت کرنےوالےہیں۔ شاید یہ نمایاں خصوصیات ان بزرگانِ دین کی تعلیمات کا ثمر ہیں۔ جو اس علاقےمیں بطرف جنوب پچاسی میل کےفاصلے پر کوٹ مٹھن میں حضرت خواجہ غلام فرید بجانب مشرق اڑتالیس میل دور تونسہ شریف میں حضرت سلیمان تونسوی اور مغرب کی سمت پچیس میل دور حضرت سید احمد سلطان سخی سرور شہید آسودہ خواب ہیں۔
سخی سرور میں صرف ایک ہی چھوٹا سا ٹیڑھا میڑھا بازار ہے جس کےشمالی کنارے پر بسوں کا اڈا اور جنوبی سرے پر حضرت سلطان سخی سرور شہید کےمزارِ اقدس کی عمارت کا صدر دروازہ کھلتا ہے۔ اس کےاوپر دو منزلہ کمرے بنےہوئے ہیں اندر داخل ہوں تو سامنےکشادہ صحن اور تین کمرے ہیں جن میں سےایک میں مزارِ مبارک پر چڑھائےگئےپرانےغلاف رکھےہیں۔ اس کےساتھ چھوٹےسےتاریک کمرے میں ہر وقت شمع روشن رہتی ہے۔ دیوار کےساتھ اونچا سا تھڑا ہے جس پر مصلیٰ بچھا ہوا ہے اس پر حضرت صاحب عبادت و ریاضت کیا کرتےتھے۔ اس سےملحقہ کشادہ کمرے میں دائیں کونےمیں آپ کا مزار ہے۔ اس کےقریب چھوٹےسےچبوترے پر ہر وقت چراغ روشن رہتا ہے۔ مزارِ اقدس کےقدموں کی طرف نیچےزمین کےاندر ڈیڑھ دو بالشت چوڑا سوراخ ہے جو قبرمبارک کےاندر جاتا ہے۔ زائرین اس میں ہاتھ ڈال کر کچھ تلاش کرتےہیں۔ بعض اوقات کسی کو کوئی چیز مل بھی جاتی ہے تو وہ خود کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہے۔ مقامی لوگوں کےسوا آٹھ صدیاں قبل جب حضرت سلطان سخی سرور شہادت کےبعد یہاں دفن کئےگئےتو اس ویرانےمیں آپ کی بیوی اور دو بچے بھی ساتھ تھے۔ آپ کی بیوی نےبارگاہِ خداوندی میں فریاد کی کہ اب مجھےکس کا سہارا ہے تو حکم ایزدی سےاس جگہ سے زمین شق ہو گئی جس میں آ پکےبیوی بچےسما گئے۔ اس واقعہ کی کسی مستند حوالےسےتصدیق نہیں ہو سکی لیکن اتنا ضرور ہےکہ آپ کی محترمہ بیگم کی قبر یہیں پر ہے۔


حضرت سلطان سخی سرور شہید کا شجرہ نسب
حضرت سید احمد سخی سرور لعلاں والا بن سید زین العابدین بن سید عمر بن سید عبدالطیف بن سید شیخار بن سید اسمٰعیل بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن زین العابدین بن حضرت حسین بن حضرت علی۔


مقبرے کےکمرےاور صحن کےبائیں جانب مسجد ہے۔ جس کےتین محراب ہیں، اور کمرے کے ہر کونےمیں آپ کےچار یاروں سخی بادشاہ سید علی شہید، سیدنور شہید، سید عمر شہید اور سید اسحاق شہید کےاسمائےگرامی رقم ہیں۔
مسجد کےبالمقابل مشرقی سمت اونچی سی جگہ پر دو بہت بڑی دیگیں پڑی ہیں جن میں منوں اناج پک سکتا ہےکہتےہیں جب حضرت سخی سرور حیات تھےتو بغیر آگ جلائےان دیگوں میں جو چاہتے پکا لیا کرتےتھے۔
بجانب مغرب جدھر آپ کا چہرہ انور ہے آپ کےچار یاروں کی قبور ہیں۔ حضرت سید علی شہید اور حضرت سیدنور شہید کی پختہ قبریں ایک پہاڑی کی چوٹی پر ہیں جبکہ حضرت سیدعمر شہید اور حضرت اسحاق شہید کی کچی قبور اس کےبالمقابل دوسری پہاڑی کی چوڑی پر ہیں۔ چشم باطن سےدیکھنےوالوں کو یوں احساس ہوتا ہےجیسےآپ اپنےیاروں کی طرف دیکھ رہےہوں۔
حضرت سید احمد سلطان سخی سرور شہید کےوالد بزرگوار حضرت زین العابدین سرزمین پاک و ہند تشریف لانےسےقبل بائیس سال سےروضہ رسول اطہر کی خدمت کرتےچلے آ رہے تھے۔ ایک روز سیدالانبیاء وختم المرسلین نےعالم خواب میں ہندوستان جانےکا حکم دیا۔ آپ نےفوراً رخت سفر باندھا اور ضلع شیخوپورہ میں شاہکوٹ میں قیام کیا۔ یہ 520 ہجری (1126ء) کا واقعہ ہے۔ آپ ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہتےتھے۔ گزر اوقات کیلئےآپ نےزراعت کےعلاوہ بھیڑ بکریاں بھی پال رکھی تھیں۔ دو سال کےبعد آپ کی اہلیہ محترمہ بی بی ایمنہ جنت الفردوس کو سدھاریں۔ ان کےبطن سےتین لڑکےحضرت سلطان قیصر، حضرت سید محمود اور حضرت سید سہرا تھی۔ شاہکوٹ کا نمبردار پیرا رہان آپ کا مرید تھا۔ اس نےاپنی کھوکھر برادری سےمشورہ کےبعد اپنی بڑی دختر بی بی عائشہ کو آپ کے عقد میں دے دیا۔ ان کےبطن سے524 ہجری (1130ء) میں حضرت سید احمد سلطان پیدا ہوئےاور پھر ان کے بھائی حضرت عبدالغنی المعروف خان جٹی یا خان ڈھوڈا نےجنم لیا۔
آپ بچپن سے ہی بڑے ذہین و فہمیدہ تھے۔ اکثر اوقات اپنے والد مکرم سےشرعی مسائل سیکھتےرہتےتھے۔ ان دنوں لاہور میں مولانا سید محمد اسحاق ظلہ العالی کےعلم و فضل کا بڑا شہرہ تھا۔ آپ کو علوم ظاہری کےزیور سےآراستہ کرنےکیلئےلاہور بھیج دیا گیا۔ حضرت مولانا کی محبت و تربیت و تعلیم کی بدولت آپ ان تمام صلاحیتوں اور صفات سےمتصف ہو گئےجو کسی عالم دین کا خاصہ ہوتی ہیں۔ تحصیل علم کےبعد واپس آکر باپ کا پیشہ اختیار کیا لیکن زیادہ تر وقت یادِ الٰہی میں ہی بسر ہوتا تھا۔ ظاہری علوم کےہم آہنگ علوم باطنی حاصل کرنےکا جذبہ اشتیاق سینےمیں کروٹیں لینےلگا جس میں روزافزوں طغیانی آتی گئی۔ آپ کےوالد محترم نےجب اپنےاس ہونہار بیٹےکا رجحان دیکھا تو اس طرح تربیت فرمانےلگےجیسےمرشد مرید کی تربیت کرتا ہے۔ لیکن دل کی خلش برقرار رہی۔ چاہتےتھےکہ سلوک و معرفت کی راہوں پر گامزن ہوں۔ علم لدنی سےمالامال ہوں اور کسی صاحب حال بزرگ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوں۔
جب 535 ہجری (1141ء) میں آ پ کےوالد گرامی نےرحلت فرمائی اور شاہکوٹ میں ہی مدفن ہوئےتو آپ کےخالہ زاد بھائی ابی۔ جودھا ساون اور مکو نےآپ کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ روزافزوں ان کی چیرہ دستیوں اور زیادتیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ انہوں نے پیرا رہان کی وفات کےبعد زرخیز زمین اپنےپاس رکھ لی اور بنجر ویران اراضی آپ کےحوالےکر دی لیکن اللہ کےکرم سےوہ زرخیز و شاداب ہو گئی تو وہ بڑے نالاں وافسردہ ہوئےاور حسد کی آگ میں جلنےلگے۔ وہ ہمیشہ اس تاک میں رہتےتھےکہ حیلے بہانے سے آپ کو نقصان پہنچائیں۔
باپ کےوصال کے بعد آپ کی شادی گھنو خاں حاکم ملتان کی بیٹی بی بی بائی سے ہو گئی۔ امراءروساء نےنذرانے پیش کئے۔ جب آپ دلہن کو گھر لائےتو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مائی عائشہ نےگھی کےچراغ جلائےاور خوب خوشیاں منائیں۔ اس پر آپ کےخالہ زاد بھائی سیخ پا ہو گئےاور دل ہی دل میں آپ کو بےعزت کرنےکےمنصوبےبنانےلگے۔ انہوں نےلاگیوں اور بھانڈ میراثیوں کو بہلا پھسلا اور لالچ دےکر بھیجا کہ وہ حضرت سید احمد سلطان کو بدنام و شرمسار کریں اور ترکیب یہ بتائی کہ اگر وہ سیر دے تو وہ سواسیر مانگیں۔ انہوں نےایسا ہی کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنےنیک بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے۔ آپ نےنہ صرف لاگیوں‘ بھانڈوں‘ میراثیوں کو ہی نہیں بلکہ غربا و مساکین اور محتاجوں کو بےشمار دولت جہیز کا سامان اور دیگر اشیاء سے خوب نوازا اس دن سےآپ سخی سرورر‘لکھ داتا‘ مکھی خاں‘ لالانوالہ‘ پیرخانو‘ شیخ راونکور وغیرہ مختلف القابات سےنوازے جانےلگے۔ لیکن سخی سرور کا لقب ان سب پر حاوی ہو گیا۔ آپ کےخالہ زاد بھائی بھلا یہ کب برداشت کر سکتےتھے لہٰذا ان کی آتش حسد و انتقام مزید بھڑک اٹھی۔ اسی اثناء میں آپ کی والدہ محترمہ اور سوتیلے بھائی سید محمود اور سید سہر راہی ملک عدم ہوکر شاہکوٹ میں ہی دفن ہوئےتو آپ دل برداشتہ ہو گئے۔ کسی مردحق کے ہاتھ میں ہاتھ دینےکا جذبہ بڑی شدومد سےبیدار ہو گیا۔ چنانچہ تلاش حق کیلئے آپ بغداد شریف پہنچےجو ان دنوں روحانی علوم کا سرچشمہ تھا۔
آپ نےسلسلہ چشتیہ میں حضرت خواجہ مودود چشتی سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی اور سلسلہ قادریہ میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہم اللہ علیہم سےخرقہ خلافت حاصل کیا۔
بغداد شریف سےواپسی پر آپ نےچند دن لاہور میں قیام فرمایا اور پھر وزیرآباد کےقریب سوہدرہ میں دریائےچناب کےکنارے یادِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ عشق، مشک اور اللہ کےاولیاءکبھی چھپےنہیں رہتے۔ یہ الگ بات ہےکہ عام دنیادار انسان ان کےقریب ہو کر بھی فیضیاب نہ ہو۔ آپ کی بزرگی و ولایت کا چرچا چار دانگ عالم میں ہو گیا۔ ہر وقت لوگوں کا ہجوم ہونےلگا۔ جو بھی حاجت مند درِ اقدس پر پہنچ جاتا تہی دامن و بےمراد نہ لوٹتا۔ آ پکو جو کچھ میسر آتا فوراً راہ خدا میں تقسیم فرما دیتے۔ ہر جگہ لوگ آپ کو سخی سرور اور سختی داتا کےنام نامی اسم گرامی سےیاد کرنےلگے۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہونےوالےدنیا کےساتھ دین کی دولت سےبھی مالامال ہونےلگے۔ دن بدن آپ کےمحبین، معتقدین اور مریدین میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
دھونکل میں بھی آپ نےچند سال قیام فرمایا۔ جہاں آپ نےڈیرہ ڈالا وہ بڑی اجاڑ و ویران جگہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نےاپنےفضل و کرم سےوہاں پانی کا چشمہ جاری فرما دیا۔ مخلوق خدا یہاں بھی جوق درجوق پہنچنےلگی۔ میلوں کی مسافت طےکر کےلوگ آگےاور اپنےدکھوں، غموں اور محرومیوں کےمداوا کے بعد ہنسی خوشی واپس لوٹ جاتےایک دن دھونکل کےنمبردار کا لڑکا مفقود الخبر ہو گیا۔ نمبردار نےحاضر خدمت ہو کر عرض کیا تو ارشاد فرمایا ‘مطمئن رہو شام تک لوٹ آئےگا‘۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
وطن مالوف سےنکلےکئی سال ہو گئےتھے۔ لہٰذا واپس شاہکوٹ تشریف لےگئے۔ اس اثناء میں آپ کی شہرت و بزرگی کےچرچے پورے ہندوستان میں پہنچ چکےتھے۔ سینکڑوں میلوں کا سفر طےکر کےلوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے۔ آپ کےخالہ زاد بھائیوں کو آپ کی یہ شہرت و مرتبہ ایک آنکھ نہ بھایا۔ اپنےلئےخطرہ محسوس کرنےلگے۔ لہٰذا ان کی دیرینہ دشمنی پھر عود کر آئی۔
جب خالہ زاد بھائیوں کی عداوت انتہا کو پہنچ گئی تو آپ نقل مکانی فرما کر ڈیرہ غازی خان تشریف لےگئےاور کوہِ سلیمان کےدامن میں نگاہہ کےمقام پر قیام فرمایا اور عبادتِ الٰہی میں مصروف ہو گئے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آج کل آپ کا مزار اقدس ہے اور اب سخی سرور کےنام سےمشہور ہے۔ لوگوں کا یہاں بھی اژدہام ہونےلگا۔ ہر مذہب و ملت کےلوگ آپ کےدرِ دولت پر حاضر ہونےلگے۔ کئی ہندو، سکھ اور ان کی عورتیں بھی آپ کےعقیدت مندوں اور معتقدوں میں شامل تھیں جو سلطانی معتقد کہلاتےتھےاور اب بھی پاک و ہند میں موجود ہیں۔
آپ کےارادت مند ‘عقیدت مند‘ معتقد اور مریدین بےشمار تھےلیکن ان میں سےچار اصحاب خاص الخاص تھے۔ یہ چار یاروں کےنام سےمشہور تھے۔ انہیں آپ سے بےحد عشق تھا۔ آپ بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔
آپ کےخالہ زاد بھائیوں نےآپ کو یہاں بھی سکھ کا سانس نہ لینےدیا۔ انہوں نےاپنی قوم کےان گنت لوگوں کو آپ سے بدظن کر دیا اور جم غفیر لےکر آپ کو شہید کرنےکیلئے چل پڑے۔ ان دنوں آ پ کےسگے بھائی حضرت سید عبدالغنی المعروف خان ڈھوڈا نگاہہ سے بارہ کوس دور قصبہ ودود میں عبادت و ریاضت میں مشغول رہتےتھے۔ ان کےخادم نےجب خالہ زاد بھائیوں کےعزائم کےبارے میں اطلاع دی تو تن تنہا ان کےمقابلے پر اتر آئےاور بہتر اشخاص کو حوالہ موت کرنےکےبعد جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کےبعد وہ سب لوگ نگاہہ پہنچے۔ اس وقت حضرت سید احمد سلطان سخی سرور نماز پڑھنےمیں مصروف تھے۔ چند ایک خادم اور چاروں یار موجود تھے۔ نماز سےفراغت کے بعد جب آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ گھوڑی پر سوار ہو گئے۔ بھائیوں نےحملہ کیا تو آپ نے بھی جنگ شروع کر دی اور یاروں سمیت مقام شہادت سےسرفراز ہوئے۔ دم واپسی آپ نےارشاد فرمایا کہ میرےیاروں کو مجھ سے بلند مقام پر دفن کیا جائے۔ چنانچہ حسب الارشاد ایسا ہی کیا گیا۔
22رجب المرجب 577 ہجری (1181ء) کو تریپن سال کی عمر میں جب آپ کی شہادت ہوئی تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہنچ گئے۔ لاکھوں محبین کےقلوب ورد و غم اور ہجر و فراق سےفگار ہوگئے۔ مختلف محبین و مریدین نےآپ کےمزارِ اقدس کی تعمیر میں وقتاً فوقتاً حصہ لیا لیکن بستی سخی سرور کےمکینوں کےبقول مزار کی عمارت کی تعمیر بادشاہ بابر نےاپنی نگرانی میں کرائی تھی اور اس ضمن میں اس نےایک مہر شدہ دستاویز بھی لکھی تھی۔ مغرب کی جانب ایک بہت بڑا حوض بنوایا تھا تاکہ اس میں پانی جمع رہے۔ مسجد کی محراب کےنیچےاور سطح زمین سےتقریباً پچاس فٹ اونچی بابا گوجر ماشکی سیالکوٹی کی قبر ہے کہتے ہیں کہ آپ پہاڑ پر سے پانی لا کر نمازیوں کو وضو کرایا کرتےتھے۔
حضرت سخی سرور شہید کی یاد میں ہر سال مختلف شہروں میں میلہ لگتا ہے جس میں بےشمار لوگ حصہ لیتے ہیں۔ پشاور میں اسےجھنڈیوں والا میلہ کہتےہیں۔ دھونکل میں جون، جولائی کےمہینےمیں بہت بڑے میلےکا اہتمام ہوتا ہے۔ لاہور میں اسےقدموں اور پار کا میلہ کہا جاتا ہے اور ڈیرہ غازی خان میں آ پ کا عرس گیارہ اپریل کو بڑی دھوم دھام سےمنایا جاتا ہے۔ اس میں لوگ دور و نزدیک سےشریک ہو کر اپنی محبتوں اور عقیدتوں کے چراغ روشن کرتےاور فیضیاب ہوتےہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

اولیااللہ

  حضرتخواجہ سلیمان تونسوی

برصضیر پاک و ہند میں بارہویں صدی کے آخر میں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں ایک عظیم مصلح اور روحانی پیشوا پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق سلسلہ عالیہ چشتیہ سے تھا۔ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں مشائخ آپ کو اپنا روحانی مورث تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کی رشدوہدایت سے برصضیر پاک و ہند کا کونہ کونہ منور ہوا، برصضیر سے باہر افغانستان، وسط ایشیا، ایران، عراق، شام اور حجازمقدس تک آپ کا فیض پہنچا۔
ولادت و خاندان ۔
آپ کا نام محمد سلیمان ہے لوگ آپ کو "پیرپٹھان" کے نام سے پکارتے ہیں۔ آپ کے والد کا اسم مبارک زکریا بن عبدالواہاب اور والدہ کا نام بی بی ذلیخا ہے۔ آپ کے والد علم و فضل میں یکتا تھے۔ آپکی ولادت 1183ھ، 1769ء کو ضلع لورالائی کے گاؤں گڑگوجی میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت ۔
آپ نے علم دینی کی تعلیم گڑگوجی، تونسہ شریف، کوٹ مٹھن اور مہار شریف میں حاصل کی اور علوم باطنی کے لئے خواجہ نور محمد مہاروی (چشتیاں) کے دست مبارک پر بعیت کی اور خلافت حاصل سے سرفراز ہوئے۔
قیام تونسہ ۔
مرشد کے انتقال کے بعد 1214ھ، 1799ء میں گڑگوجی سے ہجرت کر کے تونسہ شریف (ضلع ڈیرہ غازی خان) میں مقیم ہو گئے اور خلق خدا کی رہنمائی کرنے لگے۔ آپ کا فیض عام ہو گیا اور لوگ جوق در جوق بعیت کرنے لگے۔ آپ کے تشریف لانے سے قبل تونسہ شریف سنگھڑ ندی کے کنارے چند گھروں پر مشتمل ایک غیر معروف گاؤں تھا۔ جب آپ تونسہ میں آ کر مقیم ہوئے تو یہ غیر معروف گاؤں علم و عرفان کا مرکز بن گیا اور طاؤسہ سے تونسہ شریف کہلانے لگا۔
دینی خدمات ۔
تیرہویں صدی ہجری و اٹھارویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مسلمانوں کا ہزار سالہ دور حکومت ختم ہونے کو تھا آخری مسلم حکومت یعنی مغلیہ سلطنت اپنی آخری سانس لے رہی تھی اس کی حدود صرف دہلی تک محدود ہو چکی تھی۔ مرہٹوں، جاٹوں اور سکھوں نے افراتفری مچا رکھی تھی۔ حکومت کابل کی شوکت روبہ زوال تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر سکھوں نے پنجاب پر اپنا قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ انگریز کی نظر تخت دہلی پر لگی ہوئی تھی۔ آپ نے تونسہ شریف میں عظیم علمی و دینی درسگاہ قائم کی جہاں پچاس سے زائد علماء و صوفیاء فارسی، عربی، حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف، سائنس، طب و ہندسہ وغیرہ کی تعلیم دیتے تھے۔ طلبہ کی تعداد ان مدارس میں ڈیڈھ ہزار سے زائد تھی۔ طلبہ، علماء و فقراء کو لنگرخانہ سے کھانا، کپڑے، جوتے،کتابیں، ادویہ اور دیگر تمام ضروریات زندگی ملتی ہیں۔ آپ کو درس و تدریس کا بے حد شوق تھا۔ مریدیں و خلفاء کو کتب تصوف کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ کے خلفا نے برصضیر پاک وہند کے طول وعرض میں اور اس سے باہر اپنی خانقاہیں قائم کیں۔ دینی مدارس کا اجراء کیا لنگر خانے قائم کئے۔ پاکستان میں تونسہ شریف، مکھڈشریف، ترگھ شریف، میراں شریف، گڑھی افغانان، سیال شریف، جلال پورہ، گولڑہ شریف اور بھیرہ شریف وغیرہ کے مدارس قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس میں نہ صرف اعلٰی درجہ کی تعلیم دی جاتی بلکہ اعلٰی درجہ کی تربیت بھی کی جاتی۔
تونسہ شریف کی خانقاہ برصضیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خانقاہوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔آپ کی علمی، دینی، اصلاحی، اخلاقی و روحانی تعلیمات نے معاشرے کے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا ان میں عام مسلمانوں کے علاوہ علماء و صوفیاء اور روساء بھی شامل ہیں۔
علماء اور عوام کے بڑے بڑے والیاں ریاست اور جاگیردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اکثر والیاں ریاست گدی پر بیٹھتے وقت آپ کے دست مبارک سے پگڑی بندھوانے کی خواہش کرتے مگر آپ راضی نہ ہوتے۔ سنگھڑ، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور ریاست بہاولپور کے نواب، افغانستان سے والی ریاست شاہ شجاع محمدپوتے احمد شاہ ابدالی و میر دوست محمد والی افغانستان اور پنجاب، سرحدوافغانستان کی چھوٹی بڑی ریاستوں کے نواب کئی مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کی شان میں علماء، صوفیاء اور شعراء نے عربی، فارسی، اردو اور ہندی زبان میں بے شمار تذکرے، منقبتیں، قصائد اور سلام عقیدت لکھے۔
آپ نے ماہ صفرالمظفر کی 6 اور 7 تاریخ کی درمیانی رات 84 برس کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے حجرہ عبادت میں دفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر نواب بہاولپور ثالث (1825ء تا 1852ء) مرید خواجہ تونسوی نے 85 ہزار روپے کی لاگت سے ایک عالیشان مقبرہ 1270ء میں مکمل کرایا۔
مکمل تحریر اور تبصرے>>

Archive

About

subtainhdr

Google+ Badge

PAKISTAN TIME

Blog Archive